ممتاز ترین ارب پتی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴
لے کر قبر میں ڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے: :منہا خلقناکم (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا تھا)، جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے: و فیھا نعبد کم (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈال رہے ہیں) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے : و منھا نخرجکم تارة أخری (اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے)۔ (دیکھیے، سورہ طہ : 55) یہ تین بار مٹی ڈالنا، اس پورے معاملہ کا کلائمکس ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔
ممتاز ترین ارب پتی
ہوورڈ روبارڈ ہیوز (Howard Robard Hughes) امریکا کا ایک ممتاز ترین ارب پتی تھا۔ اپریل 1976 میں ایک ہوائی سفر کے دوران اس پر دل کا حملہ ہوا۔ اس کے ہوائی جہاز کو فوراً ہاؤسٹن میں اتارا گیا۔ مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے وہ ختم ہو چکا تھا۔
اپنے قانون داں باپ سے اس کو ایک ملین ڈالر بطور وراثت ملے تھے۔ مگر اس نے اپنی غیر معمولی تجارتی صلاحیت سے اپنے سرمایہ کو 20,000 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ بڑھا لیا۔ اس کے ہوائی جہاز کا عملہ جو اس کے ساتھ شریک سفر تھا اس نے اس کے آخری لمحات کے بارے میں جو چشم دید تاثرات بیان کئے اس کی بنیاد پر مشہور امریکی آرٹسٹ شرل سالومن نے اس کا خاکہ تیار کیا ہے۔ اس خاکہ میں اس کے سفر حیات کے آخری لمحات کو مصور کیا گیا ہے امریکا کا کامیاب ترین تاجر اُس خاکہ میں وحشت ، مایوسی ، بے چارگی ناکامی اور بے یقینی کا مجسمہ نظر آتا ہے۔ امریکی تاجر کی یہ وحشت ناک تصویر اس کیفیت کو مجسم کر رہی ہے جو ایک آدمی کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہو، اس کے پیچھے وہ زندگی ہو جس کو وہ چھوڑ چکا اور آگے وہ زندگی ہو جس میں اب وہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues