Al-Risala · November 2016 · page 45

اپنی نمازِ جنازه

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۵

اپنی نمازِ جنازه

دہلی میں ایک مسلمان کی موت ہوئی۔ نماز جنازه پڑھانے کے بعد ان کو ایک مقامی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میرے ایک ساتھی نے بتایا کہ وه اس نماز میں شریک تھے۔ نماز شروع ہونے والی تھی تو ان کے پاس کھڑے ہوئے ایک مسلمان نے پوچھا۔ فرض کی نیت کروں یا سنت کی نیت کروں۔ انھوں نے کہا کہ خود اپنی نمازِ جنازه کی نیت کرو۔ اُس آدمی کو حیرانی ہوئی ۔ بعد کو انھوں نے اس آدمی سے کہا کہ کسی کے مرنے پر جنازه کی نماز پڑھنا محض ایک رسم نہیں، وه ایک سنگین حقیقت کی یاد دہانی ہے، یه حقیقت ہے کہ مرنے والے کی جس طرح موت ہوئی ہے، اُسی طرح میری موت بھی ہونے والی ہے۔ باجماعت نمازِ جنازه در اصل اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچی نماز جنازه اُسی انسان کی ہے جو دوسرے کی موت میں اپنی موت کو یاد کرے۔ وه سوچے کہ آج جو کچھ مرنے والے کے ساتھ پیش آیا ہے، وہی خود میرے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ موت کو دیکھ کر جو آدمی اس طرح سوچے، وه جب جنازه کی نماز کے لئے کھڑا ہو گا تو اس کا احساس یه ہوگا کہ میں خود اپنے جنازه کی نماز پڑھ رہا ہوں۔ جو کچھ دوسرے کے ساتھ آج پیش آیا ہے، وہی میرے ساتھ کل پیش آنے والا ہے۔ موت کسی ایک انسان کا معاملہ نہیں، موت کا واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ لازمی طور پر پیش آنے والا ہے۔ مزید یہ کہ موت کسی سے پوچھ کر نہیں آتی، موت اچانک آ جاتی ہے۔ اور موت جب آ جاتی ہے تو کوئی بھی انسان اس کو واپس کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، ایک انسان کے لئے بھی اور دوسرے انسان کے لیے بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وه ہر لمحہ اپنی موت کو یاد کرے، جو شخص اتنا زیادہ غافل ہو کہ دوسرے کی موت کو دیکھ کر بھی اس کو اپنی موت یاد نہ آئے، وه گویا کہ بے حس پتھر ہے۔ وه بظاہر انسان ہے، لیکن وه انسانی صفات سے اُسی طرح خالی ہے جس طرح پتھر کا کوئی مجسمہ انسانی صفات سے خالی ہوتا ہے۔ موت کو یاد کرنا حساس (sensitive) انسان کی صفت ہے، اور موت کو یاد نہ کرنا بے حس (insensitive) انسان کی صفت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page