موافق اسلام دور
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۸
ہر قسم کی کامیابی کے لیے کافی ہوگی۔
6- اسی طرح ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللهَ لَيُؤْيِدَ هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے سے کرے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دور میں اسلام کے لیے موافق حالات اتنے عام ہو جائیں گے کہ سیکولر لوگوں کا عمل بھی اس کے حق میں تائید بن جائے گا۔ 7- اس نوعیت کی ایک آیت فرعون کے ذیل میں اس طرح آئی ہے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةٌ (یونس: 92) یعنی (اللہ نے فرعون سے کہا کہ) پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی جو قرآن کے بیانات کی تصدیق کرنے والی ہوں، انھیں میں سے ایک حضرت موسیٰ کے زمانے کے فرعون کی لاش کی دریافت ہے۔ جو آج قاہرہ کے میوزیم میں موجود ہے۔
8- اسی طرح قرآن کی دو آیتیں ہیں: الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (الملک: قرآن کی یہ آیتیں ساتویں صدی عیسوی میں اتریں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ خدا کی تخلیق میں کوئی فطور (flaw) نہیں ہے۔ بعد کی تحقیقات مسلسل طور پر اس قرآنی دعوے کی تصدیق کرتی جا رہی ہیں۔ اس طرح کے بیانات قرآن وحدیث میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہ بیانات اسلام کی ابدیت کو بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی صداقت ہر دور میں نئے نئے دلائل کے ساتھ ظاہر ہوتی چلی جائے گی۔ اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے باقی رہے گا۔ اسلام کے ساتھ نہ صرف اس کے پیروؤں کی بڑی تعداد موجود رہے گی، بلکہ نظری اعتبار سے اسلام ہمیشہ دلیل وحجت کی سطح پر قائم رہے گا۔ اسلام کی یہ حیثیت اسلام کے داعیوں کے لیے ایک بشارت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues