Al-Risala · February 2016 · page 9

سیاسی ایمپائر سے غیر سیاسی ایمپائر تک

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۹

سیاسی ایمپائر سے غیر سیاسی ایمپائر تک

کمیونی کیشن کے اعتبار سے تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک ہے اتصالِ قریب کا دور، اور دوسرا ہے الاتصال عن بُعد (telecommunication) کا دور۔ جدید کمیونی کیشن (modern communication) سے پہلے جسمانی ذریعے سے اتصال ہوا کرتا تھا۔ جدید کمیونی کیشن کے دور میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جسمانی دوری کے باوجود بذریعہ آلات اتصال بعید کیا جا سکے۔ اتصال بعید کا یہ طریقہ اسلام جیسے دعوتی مشن کے لیے بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ محلی دعوت کو عالمی دعوت کی صورت دی جاسکے۔ یہ تاریخی واقعہ اسلامی مشن کے لیے بے حد اہم تھا۔ اس لیے اس کو پیشگی طور پر پیغمبر کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میں دکھایا گیا۔ اس معجزاتی واقعہ کو قرآن کی سورہ نمبر 17 میں اسراء کہا گیا ہے۔

اسراء کا لفظی مطلب ہے رات کو سفر کرنا (to travel by night)۔ یہ لفظ عام طور پر تیز رفتار سفر کے لیے بولا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں ایسی ٹکنالوجی دریافت ہونے والی تھی جس کے بعد دور کا سفر یا دور کی پیغام رسانی عمومی طور پر ممکن ہو جائے۔ اور اس طرح ایک انقلابی واقعہ ظہور میں آئے۔ وہ یہ کہ دعوتِ نبوت جو قدیم تاریخ میں ایک محلی دعوت کی حیثیت رکھتی تھی، وہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعے ایک عالمی دعوت کی حیثیت اختیار کر لے۔ یہ واقعہ پیغمبرانہ مشن کی نسبت سے ایک انقلابی واقعہ تھا۔ یہ انقلابی واقعہ قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے ایک نا قابلِ تصور واقعہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میں اس کا تجربہ کرایا جو بعد کے زمانے میں ایک عمومی واقعہ بننے والا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس واقعہ کا تجربہ اس طرح کرایا گیا کہ ہجرت سے ایک سال پہلے 622 عیسوی میں ایک رات کو مکہ سے یروشلم تک کے سفر کا وہ واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اسراء کہا گیا ہے۔ واضح ہو کہ مکہ سے یروشلم تک کی دوری تقریباً دو ہزار کلومیٹر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page