عیب پوشی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۹
عیب پوشی
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 2544)۔ یعنی جس نے کسی مسلم کے عیب کو چھپایا تو اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا، دنیا میں اور آخرت میں۔
اس حدیث میں اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ کسی عیب کو اس کی بدنامی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس کو اس انسان کی امیج بگاڑنے کے لیے غیر متعلق لوگوں سے بیان کیا جائے۔ مگر جہاں تک اصلاح کا تعلق ہے ۔ وہ ہر مومن کا فریضہ ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے : المؤمن مرآة المؤمن (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4918)۔ یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہوتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کے عیب کو چھپادیا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیب کو خود عیب والے شخص سے ہمدردی کے انداز میں بتایا جائے۔ آدمی کی امیج کو بگاڑنے کے لیے غیر متعلق لوگوں سے اس کو بیان کرنا ایک ناجائز فعل ہے۔
اگر آپ کو کسی شخص کا عیب معلوم ہو تو آپ کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے۔ یا تو اس کو اپنے دل میں رکھیں، کسی سے اس کو بیان نہ کریں، یا متعلق شخص سے ملیں اور ہمدردی اور اصلاح کے جذبے کے تحت اس کو بتائیں۔ یہ طریقہ سماج کے اندر تعمیری ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ یہ کریں کہ دوسرے آدمی کے عیب کو کرید کر معلوم کریں اور پھر اس کو ادھر اُدھر بیان کریں تو یہ قرآن کے الفاظ میں اشاعتِ فاحشہ (النور: 19) ہے۔ اشاعتِ فاحشہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو موجودہ زمانے میں کردار کشی (character assassination) کہا جاتا ہے۔ اگر آدمی کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ دلیل کی زبان میں اس کا جواب دے سکتا ہے۔ لیکن شخصی عیب کو لے کر لوگوں میں اس کو بدنام کرنا، اس کی سماجی تصویر کو بگاڑنا، منافقت کی پہچان ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues