اصلاحِ امت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۰
اصلاحِ امت
اصلاح امت کا سوال ہمیشہ نبوت کے دور کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اصلاحِ امت کا مطلب ہے----- امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آجائے تو زوال یافتہ لوگوں کو پیغمبر کے دور کی طرف لوٹانا۔ گویا اصلاح امت کا مقصد ہے : بعد کے دور پیدا ہونے والے امت کے افراد کو نبوت کے دور کی طرف واپس لے جانا۔ یہی بات امام مالک نے اپنے استاد، وہب ابن کیسان کے حوالے سے ان الفاظ میں کہی ہے: إنه لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها، قلت له: يريد ماذا؟ قال يريد التقى (مسند الموطا للجوہری ، حدیث نمبر 783)۔
قرآن میں اصحاب رسول کی صفت اَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ (29 بتائی گئی ہے۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ قوموں کے بارے میں کہا گیا ہے : يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ (9:30)۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول کر لیتے ہیں۔
ان آیات میں کچھ امتوں کے حوالے سے فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ جب ایک امت اپنے دورِ عروج میں ہو تو وہ اپنے اصولوں میں اتنی پختہ ہوتی ہے کہ وہ ماحول کا اثر قبول کیے بغیر اپنے دینی اصول پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جب کسی امت پر زوال کا دور آجائے تو اس کے اندر اصول پسندی کا مزاج باقی نہیں رہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں ماحول کا اثر قبول کرنے لگتی ہے۔
امتوں کے اندر بگاڑ کا سبب یہی ہے۔ کسی امت پر جب زوال کا یہ دور آجائے تو اس کے مصلحین کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ امت کے احوال کا گہرا مطالعہ کر کے اس کی نوعیت کو سمجھیں ۔ وہ بگاڑ کے اصل سبب (root cause) کو دریافت کر کے حقیقت پسندانہ انداز میں اس کے اصلاح کی منصوبہ بندی کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues