اسلام کے نام پر غیر اسلام
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲
اسلام کے نام پر غیر اسلام
حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں ہیں جو امت مسلمہ کے دور زوال کے بارے میں بطور پیشین گوئی آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن أول ما يكفاً - يعني في الإسلام - كما يكفأ الإناء يعني الخمر - فقيل : كيف يا رسول الله وقد بين الله فيها ما بين؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يسمونها بغير اسمها فيستحلونها (سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145)۔ عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس کام کو (اسلام میں) اوندھا کر دیا جائے گا جیسے برتن اوندھا کر دیا جاتا ہے، وہ شراب ہوگی۔ پوچھا گیا اے خدا کے رسول، ایسا کیوں کر ہوگا جب کہ شراب کے متعلق اللہ احکام بیان کر چکا ہے جو سب پر ظاہر ہیں؟ آپ نے کہا: لوگ اس کا نام بدل دیں گے پھر اس کو حلال قرار دے لیں گے۔ اس حدیث میں خمر کا لفظ علامت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امت مسلمہ پر زوال کا دور آئے گا تو وہ ہر معاملہ میں اسلام کو معنیٰ (اسپرٹ کے اعتبار سے) چھوڑ دیں گے، لیکن لفظاً اس کو پوری طرح پکڑے رہیں گے۔ اس طرح وہ ایک ایسا کام کریں گے جس کو غیر اسلام کو اسلامائز کرنا (Islamisation of non-Islam) کہا جا سکتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ دور زوال میں امت ایسا نہیں کرے گی کہ وہ اسلام کو چھوڑ دے۔ بلکہ یہ ہوگا کہ امت عملاً دوسری قوموں کی طرح ایک قوم بن جائے گی۔ لیکن امت کے لوگ اپنی قومی سرگرمیوں کے لیے ایسے الفاظ بولیں گے، جو بظاہر اسلامی ڈکشنری کا حصہ معلوم ہوں لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ قومی ڈکشنری کا حصہ ہوں گے۔
مثلاً وہ اپنی قوم کو امت کے لفظ سے موسوم کریں، وہ اپنی قومی لڑائی کو جہاد کا نام دیں گے، وہ قومی سرگرمیوں کو اسلامی سرگرمیوں کا نام دیں گے، وہ اپنی قومی سیاست کو اسلامی خلافت کہیں گے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues