اصلاحِ امت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۱
موجودہ زمانہ ایک ایسا زمانہ تھا جب کہ کمیونزم اور سوشلزم اور ڈیموکریسی کا بہت چرچا ہوا۔ اس کے علم بردار سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے انداز میں زندگی کا مطالعہ کرنے لگے۔ اس کے اثر سے موجودہ زمانہ میں مضاہات (imitation) کی ایک نئی صورت وجود میں آئی۔ مسلم مفکرین اسلام کی تعبیر سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کی صورت میں کرنے لگے۔ مثلاً انھوں نے یہ کیا کہ قرآن میں جو احکام لازم کے صیغے میں دیے گیے تھے، ان کو متعدی کے صیغے میں تبدیل کر دیا۔ یعنی کتاب اللہ میں جو احکام انفرادی پیروی کے معنی میں دیے گیے تھے، ان کو وہ بذریعہ طاقت نفاذ (enforcement) کی اصطلاحوں میں بیان کرنے لگے، وغیرہ۔
فعل لازم کو فعل متعدی بنانے کی یہ غلطی باعتبارِ نتیجہ امت کے اندر مختلف قسم کی برائیوں کا سبب بن گئی۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت میں سیاسی انتہا پسندی (political extremism) کا مزاج پیدا ہو گیا۔ لوگ اٹھارٹی سے ٹکراؤ کرنے لگے۔ تا کہ وہ اپنے مطلوبہ نظام کو نافذ کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں امت دو گروہوں میں بٹ گئی۔ اس کے بعد امت کے اندر وہ چیز پیدا ہوئی جس کو ریڈیکلا ئزیشن (radicalization) کہا جاتا ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، یہ سیاسی انتہا پسندی (political extremism) مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر جو مایوسی پیدا ہوئی، اس کا انجام ایک شدید تر برائی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور وہ خود کش بمباری (suicide bombing) ہے۔ خود کش بمباری کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر مفروضہ دشمن کو مغلوب نہ کر سکو تو اپنی جان دے کر اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔
اصلاح امت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی افراط یا تفریط کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، اور پھر اس کا کام اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues