استدراکات عائشہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۸
استدراکات عائشہ
استدر اک کا لفظی مطلب ہے، غلطی کی اصلاح کرنا (to make right)۔ حضرت عائشہ کی بہت سی روایتیں ہیں جن کو استدر اک کہا جاتا ہے۔ ان روایتوں میں حضرت عائشہ نے کسی راوی کی روایت کی تصحیح کی ہے۔ راوی نے کوئی بات رسول اللہ سے منسوب کی تو عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ نے یہ بات اس طرح نہیں کہی تھی، بلکہ اس طرح کہی تھی۔ حضرت عائشہ کے اس طرح کے اقوال کو استدر اکات عائشہ کہا جاتا ہے۔
اس موضوع پر علماء حدیث نے متعدد کتا بیں لکھی ہیں۔ ایک مشہور کتاب یہ ہے: عین الاصابہ فی استدر اک عائشة علی الصحابہ للسیوطی (مکتبہ العلم القاھرہ 1409ھ)۔ مصنف نے اس کتاب میں حضرت عائشہ کے 52 استدر اکات کو جمع کیا ہے۔ حضرت عائشہ کے استدر اکات میں سے ایک یہ ہے: بلغ عائشة، أن ابن عمر، يقول: إن موت الفجأة سخطة على المؤمنين، فقالت: يغفر الله لابن عمر، إنما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: موت الفجأة تخفيف عن المؤمنين، وسخطة على الكافرين الکافرین(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 3129)۔ یعنی عائشہ کو یہ بات پہنچی کہ ابن عمر ایسا کہتے ہیں کہ اچانک کی موت اللہ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ تو عائشہ نے کہا کہ اللہ ابن عمر پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اچانک کی موت مومن پر آسانی (softening) ہے اور کافر پر ناراضگی ہے۔ یہ صرف عائشہ اور ایک راوی کے درمیان مکالمے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ عورت اگر اپنے آپ کو علم و عقل کے اعتبار سے تیار کرے تو وہ معاملات میں مردوں کی رہنمائی کر سکتی ہے۔ وہ زندگی میں قائدانہ رول ادا کر سکتی ہے۔ ایسی عورت شادی شدہ زندگی میں اپنے رفیق حیات کے لیے ایک سرمایہ (asset) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues