پسند، ناپسند
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹
پسند، ناپسند
زوجین کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقا رضي منها آخر (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1469)۔ یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ کرے، اگر اس کو اس کی ایک بات ناپسند ہو تو اس کے اندر دوسری بات ہوگی جو اس کی مرضی کے مطابق ہو۔
یہ شوہر اور بیوی کے تعلقات کے بارے میں ایک دانش مندانہ نصیحت ہے۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق ، عورت اور مرد دونوں میں مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی مرد یا عورت یہ محسوس کرے کہ اس کا ساتھی اس کی پسند کے مطابق نہیں تو اس کی یہ رائے غلط مطالعے کی بنا پر ہوگی۔ کیوں کہ عورت اور مرد دونوں میں مختلف قسم کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ دونوں کو چاہیے کہ وہ فوراً فیصلہ نہ کرے، بلکہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو دونوں دریافت کریں گے کہ اپنے ساتھی کے اندر اگر ایک بات ایسی تھی جو اس کی پسند کے مطابق نہ تھی، تو ٹھیک اسی وقت اس کے ساتھی کے اندر ایک اور صفت موجود تھی، جو اس کی پسند کے عین مطابق تھی۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے کاگ وہیل (cogwheel) کی مانند ہیں۔ اگر دونوں کاگ فوری طور پر ایک دوسرے میں فٹ نہ ہو رہے ہوں تو دونوں کو چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سوچیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو جلد ہی وہ دریافت کریں گے کہ دونوں کی طرف سے یہ بے خبری کی بات تھی۔ باخبر ہوتے ہی دونوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ یہ ان کی اپنی غلطی تھی۔ ورنہ فطرت کے نظام کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے لیے درست کاگ وہیل کی مانند بنائے گیے تھے۔ خالق نے کسی کو بے کار نہیں بنایا۔ ہر عورت اور مرد اس لیے پیدا کیے گیے ہیں کہ وہ دونوں مل کر زندگی میں ایک مفید رول ادا کریں۔ فطرت کے اس نقشے کو جاننے کی کوشش کیجیے اور پھر آپ کو کوئی شکایت نہ ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues