شادی شدہ زندگی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰
شادی شدہ زندگی
18 نومبر 2015 کوانڈیا کے باہر کے ایک ملک سے ایک مسلم نوجوان کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ آج میری شادی ہونے والی ہے۔ آپ میرے لئے اور میری ہونے والی بیوی کے لئے دعا کریں۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں سب سے بہتر بات وہ ہے جو ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: النکاح من سنتي (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1846)۔ نکاح میری سنت ہے۔ یعنی نکاح ایک سنت رسول ہے۔ لیکن گہرے معنی کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح اللہ کی ایک سنت ہے۔ یعنی نکاح کا طریقہ خدا کے نقشہ تخلیق (creation) (plan of God) کے مطابق ہے۔ اس لئے نکاح کو اس کے وسیع تر معنی میں لینا چاہئے۔ نکاح کرنے والے کو یہ سمجھنا کہ وہ وسیع تر معنی میں خدا کے نقشہ تخلیق کا ایک حصہ بن رہا ہے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ نکاح کے دونوں پارٹنر نکاح کو اپنے اپنے مائنڈ سیٹ (mindset) کے مطابق لیتے ہیں۔ اگر وہ حقیقت پسند ہوں تو وہ نکاح کو خدا کے مائنڈ سیٹ کے مطابق لیں گے اور پھر ان کی شادی شدہ زندگی درست لائن پر چلنے لگے گی۔ اور پھر ان کی زندگی کے تمام معاملات فطرت کے نقشے پر قائم ہو جائیں گے۔ اور زندگی کو فطرت کے نقشے پر چلانا ہی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ موجودہ زمانے میں عورت اور مرد کے معاملے میں سب سے بڑا نظریہ عورت اور مرد کے مساوات (gender equality) کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس معاملے کا کلیدی اصول صنفی مساوات نہیں ہے بلکہ صنفی رفاقت ہے۔ نکاح کے ذریعے ایسا نہیں ہوتا کہ دو مساوی صنفیں یکجا ہو جائیں۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ دو مختلف صلاحیتیں رکھنے والی صنفیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ یہ فطری تقسیم کا معاملہ ہے۔ اور ایسا اس لیے ہے کہ دو مختلف صلاحیتیں باہمی رفاقت سے زندگی کا نظام زیادہ بہتر طور پر چلا سکیں۔ یہ معاملہ گاڑی جیسا ہے۔ گاڑی ہمیشہ دو پہیوں پر چلتی ہے۔ اسی طرح فطرت کے قانون کے مطابق، زندگی کا نظام بھی دو افراد کی شرکت پر چلتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues