Al-Risala · December 2016 · page 22

زوجین کا تعلق

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۲

زوجین کا تعلق

انسان کے خالق نے انسان کو زوجین (pair) کی صورت میں پیدا کیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا نصف ثانی (counterpart) ہیں۔ دونوں شادی شدہ زندگی کی صورت میں مل کر تخلیقی منصوبہ کو پورا کریں۔ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا کاگ (cog) بن کر زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کریں۔ دونوں ایک دوسرے کا تکمیلی حصہ(complement) بنیں۔ اس حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَ مِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (30:21)۔ یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے، تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون (peace of mind) کا ذریعہ ہیں۔ خالق نے دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے محبت رکھی ہے، تا کہ یہ مشترک سفر حسن رفاقت کے ساتھ انجام پائے۔ عورت اور مرد کو یہ سکون ابتدائی طور پر ایک دوسرے کا رفیق حیات (life partner) بننے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ اعلیٰ صورت میں یہ سکون دونوں کو ذہنی سطح پر حاصل ہوتا ہے۔ یہ سکون دونوں کو اس وقت ملتا ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر (intellectual partner) بن جائیں۔ دونوں مسلسل طور پر ایک دوسرے سے فکری تبادلہ خیال کرتے رہیں۔

اگر آپ پتھر کے دو ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو اس کے بعد وہاں ایک چنگاری نکلے گی۔ یہ اسپارکنگ (sparking) فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب

‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues

Printed page