زوجین کا تعلق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳
دو چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو دونوں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ یہ اصول جس طرح مادی دنیا کے لیے ہے، اسی طرح وہ انسانی دنیا کے لیے ہے۔ عورت اور مرد کو نکاح کی صورت میں یکجا کرنے سے یہی مقصود ہے۔ خالق کی منشا یہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد دونوں مسلسل طور پر ساتھ رہیں۔ دونوں زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال (exchange) کرتے رہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وہ عمل کرتے رہیں جس کو میوچول لرننگ (mutual learning) کہا جاتا ہے۔ اس طرح نکاح کی زندگی دونوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ دونوں اپنے لیے ایک انٹیلیچول پارٹنر پالیں۔ اور دونوں باہمی تعاون سے اپنے آپ کو فکری اعتبار سے زیادہ ارتقایافتہ انسان بنائیں۔ یہ بلاشبہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ لیکن اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا دونوں کے لیے اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں اس امکان سے باخبر ہوں، اور دونوں اپنے آپ کو اس باہمی استفادے کے لیے تیار رکھیں۔ اس معاملہ کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ دونوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال (open exchange) ہو، اور تبادلہ خیال کے لیے ہمیشہ اعلیٰ موضوعات کو اختیار کیا جائے۔ قرآن میں زوجین کے باہمی تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ (3:195)۔ یعنی خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ Man or woman, you are members one of another. عورت اور مرد دونوں بلاشبہ ایک دوسرے کے لیے بہترین پارٹنر ہیں۔ لیکن یہ بات امکان کے اعتبار سے ہے۔ دونوں کے لیے پھر بھی یہ کام باقی رہتا ہے کہ وہ حسن تدبیر سے اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ وہ عملاً اپنے آپ کو اس پارٹنر شپ کا اہل ثابت کریں۔ بھوپال (مدھیہ پرديش) میں الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ کے لئے رابطہ قائم کریں: Shahid Mohd Khan (Yashika Books)
Imami Gate Bus Stop, Imami Gate Bhopal-462 001, M.P. Mob: 9300908081
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues