علمی سفر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷
ہو گئے، پھر آپ نے خطبہ دیا یہاں تک عصر کی نماز کا وقت آگیا، آپ اترے اور آپ نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، آپ نے بیان کیا وہ سب کچھ جو ہوا ہے، اور وہ سب کچھ جو ہونے والا ہے۔
اس حدیث رسول کو پڑھ کر اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں پوری انسانی تاریخ کا کلنڈر بیان کر دیا۔ اس کے بعد آپ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگ جائیں۔ لیکن جلد ہی آپ کو محسوس ہوگا کہ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کے لیے آپ کے پاس ضروری مواد (material) موجود نہیں ہے، نہ احادیث میں اور نہ تاریخ کی کتابوں میں۔ ایسی صورت میں آپ کو چاہیے کہ اپنی کوشش کو موقوف کر دیں۔ آپ ہرگز ایسا نہ کریں کہ ساری عمر اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔ لیکن آخر میں آپ کو معلوم ہو کہ اس قسم کا کلنڈر مرتب کرنا عملاً ممکن ہی نہ تھا۔
زندگی کے حکیمانہ اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ آدمی کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے عملی امکان کا جائزہ لے۔ اگر اس کو نظر آئے کہ اس کا منصوبہ عملی طور پر ایک ممکن منصوبہ ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کے لیے کوشش کرے۔ اور اگر ایسا نہ ہو۔ یعنی آپ کو نظر آئے کہ ضروری معلومات یا ضروری وسائل کی عدم موجودگی کی بنا پر آپ کا منصوبہ واقعہ بننے والا نہیں۔ تو دانش مندی یہ ہے کہ ایسے منصوبے کو فورا چھوڑ دیا جائے۔ ایسے منصوبے کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھنا صرف وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اور وقت کو ضائع کرنا، بلاشبہ کوئی کرنے کا کام نہیں۔ اس اصول کا تعلق آدمی کی انفرادی زندگی سے بھی ہے اور قومی زندگی سے بھی۔ اس کا تعلق علمی تحقیق سے بھی ہے اور دوسری نوعیت کے کاموں سے بھی۔ کام کا یہ پہلو اگر آغاز میں غیر واضح ہو، لیکن کام شروع کرنے کے بعد جلد ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کام قابل عمل ہے یا نہیں۔ وہ صرف ایک شخصی تخیل ہے یا عملی اعتبار سے قابل حصول نشانہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues