علمی سفر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶
علمی سفر
علمی سفر کا ایک اصول قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (17:36)۔ یعنی اور ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ یہ علمی سفر کا ایک جامع اصول ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ علمی سفر کو ہمیشہ نتیجہ خیز (result oriented) ہونا چاہیے۔ جو علمی سفر عملاً نتیجہ خیز نہ ہونے والا ہو، اس میں زیادہ مشغول ہونا، اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ اور وقت کو بچانا، بجائے خود زندگی کا ایک اہم ترین اصول ہے۔ یہ بھی ایک ضروری بات ہے کہ آدمی کام کو شروع کرنے کے ساتھ اس کو ترک کرنا بھی جانے۔ علمی سفر عام طور پر اس طرح شروع ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک نکتہ (point) آتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی تفصیل معلوم کرے۔ اس ذہن کے تحت آدمی اس نکتہ کی علمی تحقیق شروع کر دیتا ہے۔ مگر جلد ہی اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کے لیے ضروری ڈیٹا (data) اس کے پاس موجود نہیں۔ بظاہر یہ امید نہیں کہ وہ اس معاملہ میں کسی قابل اعتماد رائے تک پہنچ سکتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیے زیادہ ضروری یہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کو بچائے، وہ اپنے وقت کو کسی اور علمی سفر کے لیے استعمال کرے، جس کے لیے اس کے پاس ضروری مواد موجود ہو۔ مثلاً آپ اس حدیث کو پڑھیں، جس میں ایک صحابی، ابوزید الانصاری روایت کرتے ہیں : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظهر، ثم نزل فصلى الظهر، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى العصر، فصعد المنبر فخطبنا حتى غابت الشمس، فحدثنا بما كان وما هو كائن (صحیح مسلم، حدیث نمبر 5149۔ مسند احمد، حدیث نمبر (22888)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، اور آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آ گیا، پھر آپ اترے، اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues