ایک تقابلی مثال
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۲
ایک تقابلی مثال
دوسری عالمی جنگ 1945 میں ختم ہوئی ۔ اس کے بعد امریکا نے جاپان کے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) کو اپنا آرمی بیس بنالیا۔ 2013 کی رپورٹ کے مطابق ، او کی ناوا میں امریکا کے آرمی اسٹاف کی تعداد حسب ذیل ہے :
There are approximately 50,000 U.S. military personnel stationed in Japan, along with approximately 40,000 dependents of military personnel and another 5,500 American civilians employed there by the United States Department of Defense. جاپان نے امریکا کی فوجوں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ جاپان نے امریکی فوج کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے ، ایجوکیشن اور انڈسٹری ، وغیرہ کے میدان میں اپنے ڈیولپمنٹ کا کام شروع کر دیا۔ آج امریکا کی فوجیں بدستور جاپان میں موجود ہیں ، لیکن اس کے باوجود جاپان کو اپنی پالیسی کا یہ نتیجہ ملا کہ وہ اس وقت دنیا کی عظیم اقتصادی طاقت (economic superpower) بنا ہوا ہے۔ دوسری تقابلی مثال ریاست جموں وکشمیر کی ہے۔ انڈیا 1947 میں آزاد ہوا۔ اس کے بعد وہاں جو حالات پیدا ہوئے ، اس کے تحت اُس وقت کے مہاراجہ کشمیر کی طلب پر انڈیا کی آرمی کشمیر میں داخل ہوگئی ۔ ایک اندازہ کے مطابق اس وقت کشمیر میں انڈیا کی تقریباً چھ لاکھ آرمی موجود ہے۔ کشمیریوں نے اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں انڈیا کی آرمی کے خلاف پر تشدد تحریک شروع کردی۔ وہ چاہتے تھے کہ انڈیا کی آرمی کشمیر سے واپس جائے۔ آرمی تو واپس نہیں ہوئی ، لیکن اس مدت میں کشمیریوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا : ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہلاک ہوگئے ، کشمیر کی اقتصادی ترقی رک گئی، کشمیر کا تعلیمی نظام تباہ ہو گیا، کشمیر کے ترقیاتی امکانات غیر استعمال شدہ رہ گیے ، مثلاً فروٹس (fruits) کی تجارت ، سیاحت (tourism industry) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، وغیرہ۔ مزید یہ کہ پوری کشمیری قوم منفی قوم بن گئی۔ جب کہ ترقی ہمیشہ مثبت بنیادوں پر ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues