نصرت الہی کا قانون
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳
نصرت الہی کا قانون
اللہ رب العالمین کے قوانین میں سے ایک قانون وہ ہے جو اپنے بندے کی مدد کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُہ (22:40)۔ یعنی بے شک اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔ قرآن کی یہ آیت اللہ رب العالمین کے ایک اہم قانون کو بتا رہی ہے۔
اس معاملے کو میں اپنے ایک ذاتی واقعہ سے بیان کروں گا۔ میری پیدائش یوپی کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ میرے گھر میں بڑا آنگن تھا۔ اس میں کچھ درخت اُگے ہوئے تھے۔ میں نے چاہا کہ میں اپنے آنگن میں آم کا ایک درخت لگاؤں۔ یہ میری نوجوانی کی عمر کا زمانہ تھا۔ میں نے اپنی نا پختہ سوچ کے تحت یہ چاہا کہ میرے گھر میں اچانک ایک بڑا درخت نظر آنے لگے۔ گھر کے باہر ہمارا ایک آم کا باغ تھا۔ اس میں ایک درخت تھا، جو چند سال میں بڑھ کر قد آدم کے برابر ہو چکا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس درخت کو میں اپنے گھر کے آنگن میں نصب کروں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دس سال کی فطری مدت حذف کر کے ایک دن میں بڑا درخت میرے آنگن میں دکھائی دینے لگے۔
میں نے چند مزدور لگا دیے، وہ باغ میں دن بھر کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شام میں وہ درخت کو ایک چار پائی پر اٹھا کر لائے، اور میرے گھر کے آنگن میں اس کو نصب کر دیا۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے دس سال کی فطری مدت کو ایک دن میں حاصل کر لیا ہے۔ مگر صبح کو جب میں اٹھا تو درخت کے پتے مرجھا چکے تھے۔ چند دن کے بعد درخت پوری طرح سوکھ گیا۔ اپنے آنگن کے بارے میں میرا خواب واقعہ نہ بن سکا۔ آنگن میں دوسرے درخت بدستور ہرے بھرے کھڑے تھے، لیکن میرا لگایا ہوا آم کا درخت سوکھ کر چند دن کے اندر ختم ہو گیا۔ اس واقعہ سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہاں کوئی کام دو طاقتوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues