نصرت الہی کا قانون
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۴
اشتراک سے کامیاب ہو۔ یعنی انسان کا عمل اور قانون فطرت کی معاونت۔ اس دنیا میں انسان کا کوئی منصوبہ کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہے۔ دندانہ دار پہیہ ہمیشہ دو پہیوں کے مشترک عمل سے چلتا ہے۔ اگر ایک پہیہ عمل نہ کرے تو دوسرے پہیے کے چلنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔ مثلاً آپ کو زرعی پیداوار حاصل کرنا ہے تو آپ کو اپنا دانہ زرخیز زمین (soil) میں ڈالنا ہوگا، اس کے بعد زمین کے تعاون سے آپ کو سرسبز فصل حاصل ہوگی۔
یہی قانون زندگی کے دوسرے معاملات کا ہے۔ مثلاً آپ اسلامی مشن کو اپنا مشن بناتے ہیں، اور افراد کی ایک ٹیم اس کی پشت یہ جمع کرتے ہیں تو ٹیم کے ہر فرد کو شعوری طور پر جاننا ہوگا کہ اس کی اپنی کوشش اسی وقت باآور ہوسکتی ہے، جب کہ اس کے دوسرے ممبر پوری طرح اس کا ساتھ دیں۔ مثلاً اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کسی بات پر شکایت ہو جاتی ہے۔ ایک شخص کو کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کو نظر انداز کیا گیا، یا اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ ایک شخص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی اور کو اس کے اوپر ترجیح دے دی گئی، وغیرہ۔ ایسے ہر موقعے پر ٹیم کے افراد کو یہ جاننا چاہیے کہ جس واقعے کو لے کر وہ منفی (negative) ہو رہے ہیں، وہ دراصل اجتماعی کلچر کی بنا پر ہو رہا ہے، نہ کہ ان کو بالقصد نظر انداز کرنے کی بنا پر۔ اور یہ اجتماعی کلچر دراصل فطرت کا قانون ہے جو خود خالق نے بنایا ہے۔ جس گروہ کے افراد اس سوچ کے تحت کام کریں، ان کو اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ انھوں نے فطرت کے قانون کو تسلیم کرتے ہوئے گویا کہ اللہ کی مدد کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ بھی ان کی مدد پر آ جائے گا اور ان کی کامیابی اتنی ہی یقینی ہو جائے گی، جتنا کہ رات کے بعد سورج کا نکلنا۔
کوئی انسان یا کوئی گروہ جب ایک سچے مشن کے لیے کام کرتا ہے تو خالق کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق، فطرت کا قانون اس کی مدد پر آ جاتا ہے۔ اسی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — اگر تم اللہ کی نصرت کرو گے تو اللہ بھی ضرور تمھاری نصرت کرے گا، اور تمھاری کامیابی کو یقینی بنا دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues