حساسیت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۳
ہال میں کر حوالے تیں۔
نومبر 2015 کے الرسالہ کے صفحہ 44 پر جو سوالات آپ سے پوچھے گئے ، ان کے جوابات نہیں دیے گئے ۔ کہا گیا کہ آپ کی مختلف کتابوں سے ان کے جوابات اخذ کیے جائیں۔ مشورہ نیک ہے اگر یہ صرف سائل کو دیا جاتا۔ سوالات اہم ہیں۔ چوں کہ آپ ماشاء اللہ عالم ہیں ۔ اس لیے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے مطلوب ہیں۔ ہر قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان سوالات کے تفصیلی جوابات دیے جائیں تو الرسالہ کے پورے صفحات کافی نہ ہوں ۔ پھر بھی الرسالہ عام طور پر ہر کس نا کس پڑھتا ہے جب کہ کتابیں بہت کم لوگوں کی نظر سے گزرتی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ کیے گیے سوالات کے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے دیے جائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور)
جواب
اسلام میں سوال کے بجائے تدبّر اور تفکّر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت اسلام میں سوال کے بجائے تدبر اور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسیٰ جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا : فَلاَ تَسْأَلْنِيْ عَنْ شَيْءٍ (18:70)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلے غور وفکر کرو۔ غور وفکر کر کے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سوال سے منع کرتے تھے (مسند احمد، حدیث نمبر 18232)۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے سوال کے تقاضے کو جب یہ نہ ہو اس میں نہ اس کے بارے میں نہ ہو، جب یہ نہ ہو پورا کرے۔ اس کے بعد وہ سوال کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues