حساسیت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴
اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور و فکر کرے۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور و فکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور و فکر سے اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کر سکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتا ہو۔
مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کرکے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنی ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فورا سوال کرنا، عجلت پسندی کی علامت ہے۔ بات کو سن کر پہلے غور و فکر کرنا چاہیے۔ اگر غور و فکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔
یانگون (برما) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ (اردو، انگلش) کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: U SOE WIN (Advocate)
No.64/1st Floor, Room 24, 29th Street, Pabedan, Yangon, Myanmar, +95-5169518 جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: Ayaz Ahmad Holding- Sae'ban, Gulzar Bagh Colony, Near Amar Jyoti School, Chapal Pul, Pardeeh, Jamshedpur, Jharkhand Pin: 831022, Mob. No. 9199248371, 903196239
‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues