Al-Risala · December 2016 · page 47

حساسیت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۷

قرآن دیا گیا تو انھوں نے خوشی سے کہا میں قرآن پڑھنا پسند کروں گی (I love to read the Quran)۔ دعوہ بذریعہ سیاحت: 4 اگست 2016 سے 2 ستمبر 2016 تک روزانہ الرسالہ مشن گیا (بہار) کے ممبر ان نے حاجیوں کی روانگی کے موقع پر گیا ایئر پورٹ پر اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم اور غیر مسلم، اسٹاف اور نان اسٹاف کے درمیان بڑی تعداد میں انگلش، ہندی اور اردو ترجمہ قرآن کے علاوہ اسپرٹ آف اسلام، دی ایج آف پیس، وہاٹ از اسلام وغیرہ تقسیم کیا۔ اس کار خیر کو جناب عظیم الدین ضیفی اور مجاہد حسین اور اکرام الدین صاحبان وغیرہ نے انجام دیا۔ اس کے علاوہ بودھ گیا (Bodh Gaya) میں ایک معروف بک شاپ کو دعوت ورک کے لیے سنٹر بنایا گیا ہے۔ یہ دکان محمد شہاب الدین صاحب کی ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح کتابوں کے لیے آتے رہتے ہیں۔ چناں چہ اس شاپ کے ذریعہ غیر ملکی سیاحوں میں بڑی تعداد میں انگلش دعوہ لٹریچر جیسے قرآن، دی ایج آف نہیں، اسپرت آف اسلام، وہاٹ از اسلام، وغیرہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ قرآن کے سلسلہ میں غیر مسلموں کی دلچسپی کو دیکھ مالک دکان محمد شہاب الدین صاحب نے بھی دعوت کرنے کا عزم کیا ہے۔ نیز مستقبل قریب میں بودھ گیا میں ایک بڑا میلہ لگنے والا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح شرکت کریں گے۔ یہاں اسٹال لگایا جائے گا۔ تزکیہ و تربیت : علماء کی ایک ٹیم مولانا سید اقبال احمد عمری اور مولانا سید فیاض الدین عمری کی قیادت میں سی پی ایس مشن سے جڑی ہوئی ہے۔ 5-1 اکتوبر 2016 کے درمیان ان لوگوں نے دہلی کا دورہ کیا، اور صدر اسلامی مرکز کی صحبت میں رہ کر دور جدید، اسلام، دعوت اسلام وغیرہ کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ سی پی ایس دہلی کی ٹیم کے ساتھ مختلف امور پر میٹنگیں ہوئیں۔ اس درمیان یہ طے پایا کہ صدر اسلامی مرکز کی کتابوں سے اردو میں ایک نصاب تیار کیا جائے گا۔ یہ نصاب ان لوگوں کی نگرانی میں انجام پائے گا۔ • مہاراشٹرا کی سی پی ایس ٹیم نے دہلی کا دورہ کیا۔ یہاں ان کا قیام 8-19 اکتوبر 2016 کو رہا۔ اس درمیان انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کیا اور دہلی سی پی ایس ممبران سے اپنے دعوہ تجربات شیئر کیے، اور ایک نئے دعوتی عزم کے ساتھ وہ لوگ واپس لوٹے ۔

آپ کا مشن، آپ میں تبدیلی :

• I would like to express my views on Al-Risala magazine. First of all, my close friend Mr. M.A. Naeem, M.A., B.Ed., introduced Al-Risala to me in 1976. The magazine impressed me very much and since then I have been its regular reader. The magazine made me a different man compared to what I was earlier. It has made me Akhirat-oriented. I have now started bothering very much about my Akhirat. I explain to my children the different topics published in the magazine. I am deeply

‹ Previous page Next page › Contents of December 2016 All issues

Printed page