دورِ قدیم، دورِ جدید
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۴۱
دورِ قدیم، دورِ جدید
دورِ قدیم میں طاقت کو واحد معیار کا درجہ حاصل تھا۔ روایتی طور پر طاقت ور آدمی کو یہ حیثیت ملی ہوئی تھی کہ وہ طاقت کے بل پر جہاں چاہے اپنا دبدبہ قائم کرلے۔ اور لوگ اس کو درست سمجھ کر قبول کر لیں ۔ اس اعتبار سے گویا قدیم دور کا معاشرہ طاقت ور انسان کا معاشرہ تھا۔ موجودہ زمانے میں حقوق انسانی (human rights) کی تحریکیں نہایت زور و شور کے ساتھ چلیں۔ یہاں تک کہ دنیا میں عملاً ایک نیا معیار قائم ہو گیا۔ اب حقوق یافتہ طبقہ (privileged class) کا تصور ختم ہو گیا۔ اب ایک نیا دور شروع ہوا ہے جب کہ اصولی طور پر ساری اہمیت جوہر ذاتی (merit) کی ہے۔ آج کی دنیا میں ساری اہمیت صرف میرٹ (merit) کو حاصل ہے۔ آج کی دنیا مبنی بر میرٹ (merit-based) دنیا ہے۔ اگر آپ غلطی کر کے کسی کو جواز (justification) نہ دیں تو آپ کو یہ تجربہ پیش آنے والا نہیں کہ آپ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ایک چیز کے حقدار ہوں، پھر بھی وہ چیز آپ کو نہ ملے۔
زمانے کی اس تبدیلی نے آج ایک نیا امکان پیدا کر دیا ہے۔ وہ امکان یہ ہے کہ اگر آپ مکمل طور پر پر امن طریقہ (peaceful method) اختیار کریں تو کوئی آپ پر تشدد کرنے والا نہیں۔ کسی بھی مقام پر آپ کا راستہ رکنے والا نہیں۔ پر امن طریقہ کار کے ذریعے آپ جو مقصد چاہیں، اس کے لیے آزادانہ طور پر اپنا منصوبہ بنا سکتے ہیں، اور اس کو زیرِ عمل لا سکتے ہیں۔ مثلاً تجارت، تعلیم، دعوت الی اللہ، وغیرہ۔
یہ امکان خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو تعلیم اور دعوت جیسے تعمیری میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے زمانے میں جبر کا نظام تھا۔ اس لیے تعمیری میدان میں بھی آزادانہ کام کے مواقع حاصل نہ تھے۔ اب یہ رکاوٹ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ اب ہر انسان اور ہر گروپ کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے تعمیری حوصلوں کو پوری طرح برروئے کار لاسکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues