سیاسی غلو
الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۴۰
کے ذریعے ایک متوازی امپائر بنا سکے مگر مسلمانوں کو اس نئی حقیقت کی کوئی خبر نہیں، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں جو متشددانہ جہاد شروع کیا گیا، وہ ٹیپو سلطان (وفات: 1799) سے لے کر آج تک جاری ہے۔ مگر اس دو سالہ جہاد کا کوئی بھی مثبت نتیجہ نہیں۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں ابھی تک از سرے نو جائزہ (reassessment) کی کوئی حقیقی تحریک نہیں اٹھ سکی۔ اس کا سبب مسلمانوں کا یہی شعوری پچھڑاپن ہے۔ آج سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اس شعوری پچھڑے پن کو دور کیا جائے، اس کے بغیر صورت حال میں کسی مثبت تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔
تقریباً ۷۰ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے ایک کتاب لکھی جس کا ٹائٹل تھا: ”لماذا تأخر المسلمون و تقدم غير هم“ (مسلمانوں کیوں پیچھے رہ گئے اور دوسری قومیں کیوں آگے ہوگئیں)۔ اس کتاب میں جہاد میں پچھڑنے کو مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب بتایا گیا ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں اس عربی شعر کو نقل کیا تھا:
تاخرت استبقی الحياة فلم أجد لنفسي حياة مثل أن أتقدمـا میں بقائے حیات کے لئے جنگ سے پیچھے رہا، مگر اس میں میں نے اپنے لئے کوئی زندگی نہ پائی۔ زندگی تو صرف آگے بڑھنے والوں کے لئے تھی۔
یہی بات پچھلے دو سو سال سے تمام مسلم رہنما لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ جہادی نظریہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں پھیل گیا۔ حتی کہ جہادی ماڈل ہی عمل کا واحد ماڈل بن گیا۔ لیکن آج نتیجہ کو سامنے رکھ کر سوچیے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل، معکوس نتیجہ (counterproductive) پیدا کرنے والا عمل ثابت ہوا۔ ایسی حالت میں مذکورہ شعر کی بات کو بدل کر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میں نے زندگی اور بقاء کے لئے جنگ کا طریقہ اختیار کیا مگر آخر کار معلوم ہوا کہ زندگی اور بقاء تو ان لوگوں کے لیے ہے جو متشددانہ طریقہ کار کے بجائے پرامن طریقہ کار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues