Al-Risala · January 2016 · page 10

تالیف قلب

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۱۰

تالیف قلب

تالیف قلب کا مطلب ہے دل میں نرم گوشہ (soft corner) پیدا کرنا۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں مؤلفة القلوب (9:60) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تالیف قلب کا تعلق دعوتی اخلاقیات سے ہے۔ مدعو کے ساتھ اس نوعیت کا حسن سلوک (friendly behaviour) جس سے مدعو کے دل میں اسلام سے قربت پیدا ہو، وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو سمجھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تجارتی تعلقات کے دائرے میں کسٹم فرینڈلی بہیویر (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تالیف قلب کی ایک مثال وہ ہے جب کہ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی نماز کے لیے کعبہ کے بجائے یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ مفسر النسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنز یل وحقائق التاويل میں تالیف قلب کی پیغمبرانہ مثال دیتے ہوئے لکھا ہے: روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بمكة إلى الكعبة ثم أمر بالصلاة إلى صخرة بيت المقدس بعد الهجرة تأليفاً لليهود ثم حول إلى الكعبة (تفسیر النسفی، بيروت، 1998، جلد 1 ، البقرة آیت 143 )۔ یعنی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ یہود صخرۃ کی طرف رخ کر کے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔

تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مومن کے لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کوئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی زمانے میں سورہ المدثر اتری۔ اس سورہ میں دعوت کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page