اول المسلمین
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۷
اول المسلمین
قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (6:163)۔ یہاں اول المسلمین کا لفظ آیا ہے۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ میں پہلا مسلم (first Muslim) بنوں۔ مگر قرآن کی اس آیت کو لفظی معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ کیوں کہ جس وقت یہ آیت اتری اس وقت بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے۔ اور آپ کی اہلیہ خدیجہ نے تو عین اسی دن اسلام قبول کیا تھا، جب کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول مقرر فرمایا۔
حقیقت یہ ہے کہ اول المسلمین یا اول من اسلم کی آیات لفظی معنی میں نہیں، بلکہ وہ عزم کے معنی میں ہے۔ یعنی اسپرٹ کے معنی میں۔ یہ اسی اسپرٹ کا اظہار تھا، جس کو انگریزی زبان میں ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: آئی ول ڈواٹ (I will do it)۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک با عزم صاحب مشن کا کلمہ ہے۔ وہ صاحب مشن کے یقین اور عزم کو بتاتا ہے۔ یہ کلمہ صاحب مشن کی اس اسپرٹ کو بتاتا ہے کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہ دے تب بھی میں اس کام کو انجام دوں گا۔ اگر کوئی شخص میرا ساتھی نہ بنے تب بھی میں اس راہ پر چلنا نہیں چھوڑوں گا۔ اس قسم کی عزیمت کی بات کو اس کے لفظی معنی میں لینا درست نہیں۔ بلکہ ایسی بات کو اس کی حقیقی اسپرٹ کے معنی میں لینا صحیح ہوگا۔ اسی قسم کی ایک مثال وہ ہے جو خلیفہ اول ابو بكر صدیق نے اس وقت کہی تھی، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد فتنہ پھیل گیا تھا، جس کو حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: لما تو في رسول الله صلى الله عليه وسلم، ارتدت العرب (سنن النسائی، حدیث نمبر 3094)۔ اس فتنہ کی شدت کے اعتبار سے حضرت عائشہ نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ یہاں نہ حضرت عائشہ کے قول کو لفظی معنی میں لینا درست ہوگا، اور نہ حضرت ابوبکر کے قول کو لفظی معنی میں لینا درست ہوگا۔ ان کا قول یہ ہے: أينقص وأنا حي (جامع الاصول، حدیث نمبر 6426)۔ یعنی کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues