مبارک لوگ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲
ساتھ ہمیشہ پیش آتا ہے۔ ہر قوم میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتداء اُجو چیز ان کے یہاں مذہب کے طور پر ہوتی ہے، وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک قومی کلچر بن جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو بعد کی نسلوں کے لیے اصل مذہب ایک اجنبی چیز بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے اپنے آپ کو دوبارہ اس قابل بنائیں کہ وہ اصل مذہب کو پہچان سکیں۔ اصلاح امت امت مسلمہ کی اصلاح ایک مستقل موضوع ہے جس پر لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور بہت کچھ بولا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔ تاہم اس موضوع پر ایک متعلق روایت ہے جو اس سلسلے میں ایک رہنما روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ روایت وہب ابن کیسان کی ہے جو اعلیٰ درجہ کے فقیہ مانے جاتے ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے ۔ یہیں انھوں نے تعلیم پائی، اور کئی صحابہ سے ملاقات کی ۔ مثلاً ابن عباس، ابوسعید الخدری، جابر بن عبد اللہ، ابن الزبیر، اور عمر و بن ابی سلمہ، وغیرہ۔ وہ امام مالک ( وفات: 179 ھ ) تبع تابعی، وغیرہ کے استاد تھے۔ ان کی وفات 127 ھ میں مدینہ میں ہوئی۔
امام مالک اپنے استاد وہب ابن کیسان کے بارے میں کہتے ہیں: کان وہب بن کیسان يقعد إلينا، ثم لا يقوم أبدا حتى يقول لنا إنه لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها، قلت له: يريد ماذا؟ قال يريد التقى (مسند الموطا للجو ہری ، حدیث نمبر 783)۔ یعنی وہب ابن کیسان تابعی ہمارے درمیان بیٹھتے، پھر وہ اٹھنے سے پہلے ہمیشہ یہ کہتے : بیشک اس امت کے آخر کی اصلاح اسی طریقے سے ہوگی، جس طریقے سے اس امت کے پہلے کی اصلاح ہوئی۔ راوی نے پوچھا کہ اس سے وہ کیا مراد لیتے تھے۔ امام مالک نے کہا: اس سے ان کی مراد تقویٰ ہوتی تھی۔ بعد کے زمانے سے مراد زوال کا زمانہ ہے۔ امت کا بعد کا زمانہ خلا کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ بھر پور سرگرمیوں کا زمانہ ہوگا۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے پاس اپنے ماضی کی بنیاد پر ایک تاریخ ہوگی، ایک کلچر ہوگا، دین کا ایک تصور ہوگا، وغیرہ۔ اس کے باوجود وہ اصل دین سے دور جا چکے ہوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues