Al-Risala · March 2017 · page 13

مبارک لوگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

گے۔ ان کی اصلاح کی صورت صرف یہ ہوگی کہ ان کو پیچھے کی طرف لوٹایا جائے۔ ان کو دوبارہ اس دین پر قائم کیا جائے ، جو دورِ اول میں رسول اور اصحاب رسول کے درمیان پایا جاتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ پیغمبر کے بعد امت کے درمیان ایک تاریخ بننا شروع ہوگی۔ دھیرے دھیرے وہ وقت آجائے گا، جب کہ لوگ اسلام کا نام لیں گے ، لیکن عملاً وہ بعد کے زمانے میں بننے والی تاریخ پر کھڑے ہوں گے۔ اب ان کا ماڈل بعد کو بننے والی تاریخ کا ماڈل ہوگا، نہ کہ رسول اور اصحاب رسول کا ماڈل۔ ایسی حالت میں ضروری ہوگا کہ لوگ اسلام اور مسلم تاریخ کے درمیان فرق کو دریافت کریں۔ وہ بعد میں بننے والی تاریخ کو حذف کر کے اصل اسلام کو جانیں، اور اس پر دوبارہ قائم ہو جائیں۔ گویا کہ ان کے لیے اسلام دریافت ثانی (rediscovery) کا موضوع بن چکا ہوگا۔ اس دریافت ثانی کے بغیر اصل دین ان کے لیے اجنبی بن چکا ہوگا۔ اس اجنبیت کو دور کرنے کی صورت صرف یہ ہوگی کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کریں۔

دونوں زمانے کے فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دو راول کا دین مبنی بر تقویٰ ہوگا، مگر زوال کا دور آنے کے بعد لوگوں کے درمیان ایک ایسا دین رائج ہو جائے گا، جو ایک قسم کا قومی دین ہوگا۔ وہ خدا رخی دین نہ ہوگا، بلکہ وہ قومی رخی دین بن جائے گا۔

یہاں یہ سوال ہے کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔ جس کے مفقود ہونے کی وجہ سے بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے حقیقی دین اجنبی دین بن جائے گا۔ اس روایت کے مطابق ابتدائی دور کے اہلِ ایمان تقویٰ کا طریقہ اختیار کر کے اصلاح یافتہ بنے تھے۔ بعد کے زمانے کے لوگوں کو بھی یہی کرنا ہوگا کہ وہ اپنی غیر متقیانہ روش کو چھوڑیں، اور دوبارہ تقویٰ کے طریقے کو اختیار کریں۔ تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ایسی روش کو اختیار کرے جو اللہ کے مواخذہ کے تصور پر مبنی ہو، جو اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس پر قائم ہو۔

اس نمبر کے علاوہ باقی سبھی نمبر بند کر دیے گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page