دو دنیا ئیں
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴
دو دنیا ئیں
خالق نے دو دنیا ئیں بنا ئیں ۔ ایک انسانی دنیا، اور دوسرے مادی دنیا، جس کو علمی زبان میں نیچر (nature) کہا جاتا ہے۔ کائنات کا مطالعہ کرنے والا، ان دونوں دنیاؤں کے درمیان ایک عجیب فرق پاتا ہے۔ انسانی دنیا اسفل سافلین (التین: 5) کی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مادی دنیا کے بارے میں خالق کا یہ اعلان ہے کہ لا ترى من فطور (الملک: 3)۔ دونوں دنیا ئیں اس طرح ایک دوسرے سے مختلف (different) کیوں ہیں۔
اس کا جواب قرآن میں تلاش کیا جائے، تو یہ معلوم ہوگا کہ مادی دنیا مسخر دنیا (الجاثیہ: 13) ہے۔ یعنی خدمت گار دنیا۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا ایک آزاد دنیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ہے بقیہ دنیا اگر خدمت گار دنیا ہے تو انسان اس دنیا کا ماسٹر (master) ہے۔ انسان کو سرداری کا یہ مقام موجودہ دنیا میں بظاہر عمومی طور ملا ہوا مقام دکھائی دیتا ہے۔ لیکن آخری حقیقت کے اعتبار سے یہ مقام انتخابی بنیاد (selective basis) پر ملنے والا ہے۔
انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے : اَلَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالحَياةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی دنیا میں رکھا گیا ہے جہاں ہر قسم کے تجربات پیش آئیں ۔ اس کو مسلسل طور پر چیلنج کے درمیان زندگی گزارناپڑے۔ اس کے لیے مختلف انتخابات (options) ہوں، اور اس کو اپنی عقل کو استعمال کر کے یہ جاننا پڑے کہ اس کو کون سا انتخاب لینا ہے اور کون سا انتخاب چھوڑ دینا ہے۔ اس طرح مختلف حالات سے گزرتے ہوئے وہ انسان بنتا ہے جس کو قرآن میں احسن العمل (الملک: 2) کہا گیا ہے۔ یہی احسن العمل (best in conduct) والے افراد ہیں جن کو منتخب کر کے ابدی جنت میں بسایا جائے گا۔ وہ وہاں خالق کے قرب میں ابدی طور پر اعلیٰ زندگی گزاریں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues