اجتہاد کا معاملہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۲۹
اجتہاد کا معاملہ
اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ حالات بدلنے کے بعد ابتدائی حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کی جائے۔ مثلاً جدید طرز کے صنعتی موزوں کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراہ کے حکم کو منطبق کرنا، وغیرہ۔
اجتہاد صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔ صرف یہ کہا جائے گا کہ اجتہاد کے لئے اخلاص نیت کو ضروری قرار دیا جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کر لے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دہر اثواب ملے گا (أصاب فله أجران)، اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا (أخطأ فله أجر) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتا ہے حتی کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہو جائے تو وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اور وہ اپنی رائے کو درست کر لے۔ اجتہاد ایک تعمیری عمل ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طور پر لوگوں کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا اور ذہنی جمود بلا شبہ اسلام میں ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ جب کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ وہ اہل علم سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ ان چیزوں کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت (فکری سنجیدگی) موجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues