Al-Risala · March 2017 · page 30

ملت کی اصلاح

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰

ملت کی اصلاح

قرآن کے مطابق ، بعد کے زمانے میں جب ملتِ یہود کا زوال آیا تو اللہ نے ان کے اوپر طاقت ور بندے بھیج دیے (الاسرا: 5)۔ یہ واقعہ دو بار ہوا۔ ایک بار 586 ق ، م میں بخت نصر (Nebuchadnezzar) تاجدار بابل و نینوا کے ہاتھوں، اور دوسری بار 70 ء میں رومی شہنشاہ ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ یہ گویا یہود کے لیے ڈائسپورا (diaspora) میں جانے کا زمانہ تھا۔ یہ یہود کے لیے عذاب یا غضب الہی کا معاملہ نہ تھا ، یہ دراصل تنبیہ (warning) کا معاملہ تھا۔ یہ اس لیے تھا تا کہ یہود نصیحت پکڑیں اور اپنی اصلاح کریں۔

یہود کی زندگی میں یہ تنبیہی دور لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں یہود کے اندر مذہبی اصلاح تو نہیں آئی۔ کیوں کہ زوال کے دور میں انھوں نے جس قومی کلچر کو مذہب کے نام سے اختیار کر رکھا تھا۔ اسی کو وہ موسوی مذہب سمجھتے تھے۔ البتہ سیکولر معنی کے اعتبار سے ان کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی، اور انھوں نے امریکا و یورپ کے ملکوں میں سائنسی تعلیم حاصل کی، اور یہ جانا کہ دور جدید کیا ہے۔ یہاں تک کہ سیکولر معنوں میں وہ جدید معیار کے مطابق ایک ترقی یافتہ قوم بن گیے۔ یہود کی تاریخ کا یہ مثبت پہلو موجودہ اسرائیل میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمان بھی اسی تنزل کے دور سے گزر رہے ہیں، اور دوبارہ ان پر اسی طرح اللہ کی طرف سے تنبیہات آرہی ہیں ، جس طرح یہود کے اوپر آئی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں جن چیزوں کو ’’اغیار کا ظلم‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اغیار کا ظلم نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کی طرف سے آنے والی تنبیہات ہیں۔ تا کہ مسلمان بیدار ہوں اور دوبارہ اصل دین اسلام کی طرف لوٹیں۔ لیکن عملاً دوسری بار بھی یہی ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے اندر صحیح معنوں میں دینی بیداری نہیں آرہی ہے۔ کیوں کہ اس وقت ان کے اندر دین اسلام کے نام پر جو قومی کلچر رائج ہے، مسلمانوں نے اسی کو اصل دین محمدی سمجھ لیا ہے۔ اس بنا پر وہ اس کے اوپر شدت کے ساتھ قائم ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page