Al-Risala · March 2017 · page 32

حالات کا اندازہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲

ہورہا ہے۔ ہم اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے اس تنقید کا استقبال کیا۔ کلا شاک ہیں ۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ جب کوئی امت تنزل کا شکار ہو تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کے طور پر تنبیہات آئیں ۔ یہ تنبیہات اصلاح کے لیے ہوتی ہیں، لیکن جب ان تنبیہات کو ظلم یا سازش کا نام دیا جائے تو ان کی تاثیر عملاً ختم ہو جائے گی۔

حالات کا اندازہ

لوہار لوہے کو آگ میں ڈال کر تپاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوہا رگرم ہوکر لال ہو جاتا ہے۔ اس وقت لوہار ہتھوڑا مار کر لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بناتا ہے، چپٹا یا گول یا لمبا۔ لوہار اگر لوہے کو گرم کیے بغیر اس پر اپنا ہتھوڑا مارنے لگے تو وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے میں کامیاب نہ ہو۔ اسی سے انگریزی کی مثل بنی ہے کہ لوہے کو اس وقت مارو جب وہ خوب گرم ہو:

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ آدمی کو زندگی میں اکثر کوئی اقدام کرنا پڑتا ہے۔ مگر اقدام سے پہلے ضروری ہے کہ حالات کا بھر پور اندازہ کر لیا جائے۔ اگر حالات پوری طرح تیار ہوں تو اقدام مفید ہوگا، ورنہ وہ نا کام ہو کر رہ جائے گا۔

لوہا گرم ہونے پر ہتھوڑ ا مارنے والا اپنے مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ جو شخص ٹھنڈے لوہے پر ہتھوڑا مارنے لگے وہ صرف اپنے ہاتھ کو دکھ پہنچائے گا، وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔ (ڈائری، 1985)

بھیجتے وقت فارم میں یہ ضرور لکھیں : eMO

1۔ الرسالہ کا نیا موبائل نمبر (8588822679) ضرور لکھیں 2۔ اپنا موبائل نمبر اور 3۔ اپنا خریداری نمبر (Subscription No.)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page