ملت کی اصلاح
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱
مگر یہاں مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی معاملہ پیش آرہا ہے، جو اس سے پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا۔ یعنی ان تنبیہات کے بعد سیکولر بیداری۔ چناں چہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ منظر دکھائی دے رہا ہے کہ وہ سیکولر تعلیم کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ وہ جدید دور میں ترقی یافتہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ صرف سیکولر معنی میں ہے۔ یعنی پروفیشنل تعلیم، سیکولر میدان میں ترقی، اور دور جدید میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش۔
یہ بات ہر جگہ کے مسلمانوں میں نظر آرہی ہے۔ اگرچہ یہ سیکولر احیاء یہود کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہود موجودہ زمانے میں سیکولر پہلو سے پورے معنوں میں ایک ترقی یافتہ قوم (developed nation) بن چکے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں نے ابھی تک اس راہ میں صرف اپنے سفر کا آغاز کیا ہے۔ دینی شعور کے اعتبار سے ابھی تک ان کے اندر کوئی قابل ذکر احیاء کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم سیکولر اعتبار سے زمانی دباؤ کے نتیجے میں انھوں نے اپنا سفر شروع کر دیا ہے، اگر چہ رفتار بہت سست ہے۔
اس معاملے میں اصل غلطی عام مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ ان کے نام نہاد رہ نماؤں کی ہے۔ ان کے رہنما مسلسل طور پر ایک الٹا کام کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اوپر جو تنبیہات آرہی ہیں، وہ اللہ کی طرف سے برائے اصلاح ہیں۔ لیکن مسلم رہنما اپنی بے شعوری کی بنا پر ان خدائی تنبیہات کو دوسری قوموں کے ظلم کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔
وہ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ موجودہ زمانے کی غیر مسلم قومیں تمھاری دشمن ہوگئی ہیں۔ وہ تمھارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔ وہ تم کو ترقی کے راستے سے روکے ہوئے ہیں، وغیرہ۔ اس معکوس رہ نمائی کے اندر دوہرا نقصان پایا ہے۔ ایک طرف یہ کہ یہ رہ نمائی مسلمانوں کے اندر اصلاح کا طاقت ور محرک پیدا ہونے میں مستقل رکاوٹ ہے، اور دوسری طرف یہ کہ وہ اللہ کے منصوبہ (scheme of things) میں خلل کے ہم معنی ہے۔
اس طرح یہ رہنما اللہ کے تخلیقی منصوبہ میں مداخلت (intervention) کے مجرم بن رہے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues