Al-Risala · March 2017 · page 36

شادی کا صحیح طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

شادی کا صحیح طریقہ

ہر مسئلے کا یقینی حل ہے، بشرطیکہ مسئلے کو صحیح اصول کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ یہ دریافت کیا جائے کہ جو ہوا اس کا اصل ذمہ دار کون تھا۔ اکثر حالات میں مسئلے کے حل کا آغاز یہ ہوتا ہے کہ آدمی یہ دریافت کرے کہ اصل غلطی خود اس کی ہے، کسی دوسرے کی نہیں۔

مثلاً لَو میرج (love marriage) میں نکاح کے وقت شادی کا معاملہ بظاہر محبت کا معاملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن نکاح کے بعد شادی کا معاملہ عملاً ذمہ داری کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے، اور فطرت کے اصول میں کوئی تبدیلی نہیں۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو نکاح کا وہی طریقہ درست ہے جس کو ارینجڈ میرج (arranged marriage) کہا جاتا ہے۔ لَومیرج اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک جذباتی میرج ہے، جس کو غلط طور پر لَو میرج کا نام دے دیا گیا ہے۔ لَومیرج کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں طرفین کے خاندان کی ذمہ داری عملاً ختم ہو جاتی ہے۔ اب ذمہ داری کا سارا معاملہ صرف دوناتجربہ کار نو جوانوں کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لَو میرج بعد کو اکثر نا کام ثابت ہوتی ہے۔

اگر کسی کی لومیریج پرابلم بن جائے تو اس کے بعد اس کو یہ کرنا چاہیے کہ اپنے مسئلے کا ذمہ دار خود اپنے آپ کو قرار دے، نہ کہ کسی دوسرے کو ۔ ایسا کرنے کے بعد اس کا ذہن صحیح رخ پر کام کرنے لگے گا۔ اس کا رویہ حقیقت پسندانہ رویہ بن جائے گا۔ اس کے اندر منفی سوچ باقی نہیں رہے گی۔ اس کا تعلق براہ راست طور پر اللہ سے قائم ہو جائے گا۔ اگر وہ ایسا کرے تو امید ہے کہ دھیرے دھیرے اس کے معاملات درست ہو جائیں گے۔

زندگی کبھی جذبات کی بنیاد پر نہیں چلتی ، زندگی ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر چلتی ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ آئیڈیلسٹ (idealist) نہ بنے، بلکہ وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page