Al-Risala · March 2017 · page 37

شادی کا صحیح طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۳۷

جانے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہ جانیں، وہ ہمیشہ شکایت (complaint) میں جئیں گے، وہ اپنی زندگی کو کامیاب زندگی بنانے میں ناکام رہیں گے۔ یہ اصول ایک فرد کے لیے بھی درست ہے، اور پوری قوم کے لیے بھی درست۔

ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان فطرت کا ایک اصول ہے۔ نکاح کے ذریعہ زوجین کے درمیان ایک خصوصی تعلق قائم ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے قریبی طور پر شریک حیات بن جاتے ہیں۔ اس طرح دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے فکری ساتھی (intellectual partner) بن کر زندگی کا وہ رول ادا کریں، جو خالق کے نقشے کے مطابق ان سے مطلوب ہے۔

نکاح کا تعلق دو انسانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ سماج کا ایک مقدس یونٹ بنیں۔ وہ خاندان کی سطح پر پورے سماج کے لیے ایک ماڈل بن جائیں۔ وہ سماج کی تشکیل میں ایک ایسا تعمیری حصہ ادا کریں، جو صرف ایک خاندان کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا ہو جائے تو ہر سماج ایک درست سماج بن جائے گا۔ یہی سماجی زندگی کی صالح تعمیر کا واحد طریقہ ہے۔ تیاری ذہن یا نفاذِ قانون عرب ویڈیو ٹیپ کو فیڈ یوٹیوب (مسجلة تلفزيونية) کہتے ہیں۔ عرب سے آئے ایک شخص نے کہا کہ بعض عرب ملکوں میں سنیما ہاؤس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر گھر میں لوگوں نے وی سی آر لگا لیا ہے، اور اس کے اوپر ہر قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’آپ باہر سنیما ہاؤس بند کریں گے تو گھر میں سنیما ہاؤس کھل جائے گا۔ ‘‘ معاشرہ کا ذہن جب تک تیار نہ کیا گیا ہو تو اوپر سے اصلاحی احکام نافذ کرنے کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔

(ڈائری، 1985)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page