Al-Risala · March 2017 · page 43

درست فیصلہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳

درست فیصلہ

ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی میں درست فیصلہ (right decision) کیسے لیا جائے۔ میں نے کہا کہ درست فیصلہ مطلق معنوں (absolute sense) میں لینا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درست فیصلہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی مستقبل کو جانے۔ چوں کہ انسان مستقبل کو نہیں جانتا ، اس لیے معیاری معنوں میں درست فیصلہ لینا بھی انسان کے لیے ایسے حالات میں عملاً ممکن نہیں ہوتا۔

درست فیصلہ نہ لے سکنا ، کوئی عیب کی بات نہیں۔ بلکہ یہ ایک رحمت کی بات ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی مثبت ذہن (positive mind) کے ساتھ جینے والا ہو۔ اگر آپ درست فیصلہ نہ لے سکنے کی بنا پر کسی ناکامی سے دوچار ہو جائیں تو ہرگز غمگین نہ ہوں۔ بلکہ صرف یہ سوچیے کہ میرے فیصلے میں غلطی کہاں تھی۔ اس طرح آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ معاملے کے مخفی گوشوں کو سمجھ سکیں، اور اپنے معاملے کی زیادہ بہتر منصوبہ بندی کریں۔ یہ مزاج کسی انسان کے لیے بہت مفید ہے۔ کیوں کہ فیصلہ میں غلطی سے اگر کوئی بات بظاہر بگڑ جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے موقع (first chance) کو کھو دیا ہے۔ لیکن جب آپ مثبت سوچ پر قائم ہوں تو آپ کا ذہن فورا یہ دریافت کرلے گا کہ یہاں آپ کے لیے دوسرا چانس (second chance) موجود ہے۔ اس طرح آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ دوسرے موقع کو استعمال کرکے بہت جلد اپنے آپ کو کامیاب بناسکیں ، بلکہ شاید پہلے سے زیادہ کامیاب۔ زندگی میں مواقع کبھی محدود نہیں ہوتے۔ مواقع کی تعداد ہمیشہ بے شمار ہوتی ہے۔ آپ اگر ایک موقع کھودیں تو پیشگی طور پر یہ یقین رکھیے کہ یہاں آپ کے لیے مزید مواقع موجود ہیں ، اور ان کو استعمال کرکے از سر نو اپنے آپ کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اسی کا نام زندگی کی حکمت (wisdom) ہے، اور حکمت ہی کا دوسرا نام کامیابی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page