Al-Risala · March 2017 · page 45

بہتر کا انتخاب

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۴۵

سوال و جواب سوال عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان مورخین نے تاریخ مسلمانان لکھی ہے، تاریخ اسلام نہیں۔ میرا سوال یہ ہے اگر تاریخ اسلام لکھی جائے تو اس کے موضوعات کیا ہوں گے۔ (محمد زید، دہلی) جواب تاریخ اسلام دراصل تاریخ پیغمبر کا دوسرا نام ہے۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو کام کیے، وہ اسلام کی تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو کام نہیں کیے وہ مسلم تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ براہ راست طور پر اسلام کی تاریخ کا حصہ۔ یہ بات اگر متعین طور پر کہی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کی تاریخ وہ ہے جو تاریخ دعوت ہو۔ جو تاریخ مسلم حکومتوں کی تفصیل بیان کرے، اور جس میں مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کی تفصیل ہو، وہ اصلا مسلمانوں کی تاریخ کہی جائے گی، نہ کہ اسلام کی تاریخ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن دعوت الی اللہ تھا۔ دعوت الی اللہ کی نسبت سے جو واقعات پیش آئے وہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کا ذکر غیر تفصیلی انداز میں قرآن میں موجود ہے۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں لڑائیاں ہوئیں۔ انھوں نے سلطنتیں قائم کیں، انھوں نے قلعے اور محلات بنائے، تہذیبی ترقیاں کیں۔ یہ سب بالواسطہ طور پر اسلام کا حصہ ہوسکتے ہیں لیکن براہ راست طور پر وہ مسلمانوں کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس حقیقت کا احساس مورخ ابن خلدون (وفات: 1406) کو بھی تھا۔ انھوں نے اس کمی کی تلافی کے لیے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ہے: کتاب العبر ودیوان المبتدأ والخبر۔ مگر ان کی یہ کتاب بھی عملاً تاریخ مسلمین بن گئی، وہ تاریخ اسلام نہ بن سکی۔ یہ ضرورت ابھی تک باقی ہے کہ کوئی صاحب علم تمام متعلقہ حوالوں کا از سر نو مطالعہ کرے اور پھر وہ اسلام کی تاریخ لکھے۔ تاریخ اسلام وہ ہوگی جو پیغمبر اسلام کے مشن کی تاریخ کو بیان کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page