غضب، رحمت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰
غضب، رحمت
اللہ کی صفت غضب بھی ہے اور رحمت بھی۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ اللہ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ اس کو اپنے غضب کا تجربہ کرائے تو یہ بلاشبہ اللہ رب العالمین کا ایک کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ اللہ رب العالمین اس کو اپنی رحمت کا تجربہ کرائے۔ یہی تصور اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔
اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن رحمتي سبقت غضبي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7422)۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن رحمتي غلبت غضبي (مسند اسحاق ابن راہویہ، حدیث نمبر 459)۔ یعنی میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔ باپ کے اندر اپنے بیٹے کے لیے ایک اعلیٰ شریفانہ جذبہ ہوتا ہے جس کو پدرانہ شفقت (fatherliness) کہا جاتا ہے۔ یہ جذبہ باپ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی غلطی کو سنبھالے، وہ اپنے بیٹے کو اس کی غلطی کا انجام بھگتنے نہ دے۔ یہ صفت بلاشبہ خالق کے اندر بے شمار گنا زیادہ ہے۔ اس صفت کی بنا پر جس طرح خالق کے غضب پر اس کی رحمت غالب آ جاتی ہے۔ اسی طرح بندے کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے مہربان خالق کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی رجاء (hope) اس کے خوف پر غالب آ جاتی ہے۔ وہ یہ امید کرتا ہے کہ اس کا مہربان خالق اس کی غلطیوں کو سنبھالے گا، وہ اس کو اس کی غلطیوں کے انجام سے بچا لے گا۔
زندگی کا یہ تصور اگر آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ ایک طرف وہ ہمیشہ آخرت کے مواخذہ سے ڈرتا رہے تو دوسری طرف یہ مزاج اس کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے خالق کے بارے میں پرامید(hopeful)بنا رہے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا (21:90)۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues