Al-Risala · April 2017 · page 11

تزکیہ کیا ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱

تزکیہ کیا ہے

قرآن کے مطابق ، جنت میں داخلہ ان افراد کو ملے گا، جنھوں نے دنیا میں اپنا تزکیہ کیا ہوگا۔ مثلا قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9:9) ۔ یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ اور دوسری جگہ ہے: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى (20:76) ۔ یعنی ان کے لئے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ تزکیہ کیا ہے۔ یہ ایک حدیث رسول کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان الفطرۃ پر پیدا کیا گیا ہے۔ مگر ماحول کے اثر سے وہ غیر فطری زندگی اختیار کر لیتا ہے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1385)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر مرکز کی شخصیت (فطرت صحیحہ) پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning) کی وجہ سے وہ ایک مصنوعی شخصیت بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں تزکیہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اس مسئلہ کو جانے اور اپنی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرکے دوبارہ اپنے آپ کو فطری شخصیت بنائے ۔ یہی وہ فطری شخصیت ہے جو مزکیٰ کی شخصیت ہوگی۔

ڈی کنڈیشننگ دوسرے الفاظ میں سیلف کرکشن (self-correction) کے عمل کا نام ہے۔ سیلف کرکشن یاڈی کنڈیشننگ کا یہ کام کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ یہ کام ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا پہلا فرض ہے کہ وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرے ۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر ایسے آئٹم کو نکالے جو باعتبار پیدائش بظاہر اس کے اندر موجود نہ تھے۔ لیکن بعد کو وہ ماحول کی کنڈیشننگ کی بنا پر اس کی شخصیت کا حصہ بن گئے۔ جب کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے گا تو اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی کی فطری شخصیت پاک ہوکر سامنے آجائے۔ اسی پاکیزہ شخصیت کا نام مزکیٰ شخصیت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page