Al-Risala · January 2017 · page 17

پیغمر اسلام کا رول

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷

دریافت کرنا۔ اور اس کے مطابق، تاریخ میں ایک نیا دور لانا۔ یہ دور عملاً وہی ہے جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔

اس دوسرے دور کا آغاز مسلمانوں نے اپنے دور میں کیا، لیکن اس کی تکمیل بعد کے زمانے میں مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی۔ اس انقلاب کا پر اس مسلم عہد میں شروع ہوا، لیکن اس کی تکمیل بعد کے زمانے میں جدید تہذیب (modern civilization) کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی۔

دوسری قوموں کے ذریعے اس کام کا انجام پانا، احادیث رسول میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، ان میں سے ایک روایت یہ ہے : ان اللہ عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ماهم من أهله (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 56) ۔ یعنی اللہ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔ جدید تہذیب جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ حقائق فطرت کے انکشاف پر مبنی ہے۔ قرآن کی زبان میں اس کو آفاقی تہذیب (فصلت: 53) کہا جاسکتا ہے۔ اس تہذیب میں اگر بعض غیر مطلوب اجزاء شامل ہیں، تو وہ براہ راست طور پر تہذیب کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ مغربی کلچر کا حصہ ہیں۔ مثلا برہنگی (nudity) وغیرہ۔

سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: اس کی یہ رائے دہی اوپر کے تمام امور میں جا بجا نظر آتی ہے ب ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page