Al-Risala · January 2017 · page 18

اصحاب رسول، اخوان رسول

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸

اصحاب رسول، اخوان رسول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: وددت أنا قد رأينا إخواننا قالوا: أولسنا إخوانك يا رسول الله قال: أنتم أصحابى وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (حديث نمبر 249)۔ یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں، لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ آپ نے کہا تم میرے اصحاب ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ اصحاب رسول سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہل ایمان ہیں۔ اور اخوان رسول سے مراد آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں، جو بعد کے زمانے میں ظاہر ہوں گے۔ اصحاب رسول اور اخوان رسول میں سے کوئی افضل یا غیر افضل نہیں ہے۔ دونوں عملاً یکساں درجے کے لوگ ہیں۔ اسلام میں درجہ کا تعلق زمانے سے نہیں ہے، بلکہ تقویٰ سے ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: اِنَّ اَكۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَتۡقٰکُمۡ (49:13)۔ یعنی بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ صاحب تقویٰ ہے۔

اس حدیث کی تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن عبد الله بن عمرو، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: مثل أمتي كمثل المطر؛ لا يدرى أوله خير أم آخره (المعجم الكبير للطبرانی، حديث نمبر 14649)۔ عبد اللہ ابن عمرو روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے، یا اس کا آخر۔

اس حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں ایک تاریخی واقعہ کو بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن اظہار دین کا مشن تھا۔ اس مشن کے دو دور تھے۔ پہلا دور یہ تھا کہ اسلامی مشن کے راستے میں رکاوٹوں کو ختم کر کے مواقع (opportunities) کے دروازوں کو کھولنا، اور دوسرا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page