کنڈیشننگ کا مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸
کنڈیشننگ کا مسئلہ
پیغمبر اسلام کی پیدائش 570 ء میں مکہ میں ہوئی۔ آپ نے نبوت کا مشن 610 ء میں شروع کیا ۔ 632 ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ وفات سے کچھ ماہ پہلے، آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر اس وقت کے اہل اسلام کو عمومی خطاب کیا، جو بالواسطہ طور پر پوری امت مسلمہ سے خطاب کے ہم معنی تھا۔ اس خطاب کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم النحر فقال: يا أيها الناس أي يوم هذا؟ ، قالوا: يوم حرام، قال: فأي بلد هذا؟ ، قالوا: بلد حرام، قال: فأي شهر هذا؟ ، قالوا: شهر حرام، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا، فأعادها مرارا ، ثم رفع رأسه فقال: اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت - قال ابن عباس : فو الذي نفسي بيده، إنها لوصيته إلى أمته، فليبلغ الشاهد الغائب، لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1739)۔
عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے پوچھا کہ اے لوگو، یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ يوم حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ شہر حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ حرام کا مہینہ ہے۔ آپ نے فرمایا تمہارا خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر حرام ہے، جس طرح یہ دن تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرام ہے۔ آپ نے یہ کلمات چند بار دہرائے۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ، کیا میں نے پہنچادیا۔ اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ ابن عباس نے کہا، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، آپ نے اپنی امت کو یہی وصیت فرمائی تھی کہ جو لوگ حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض،
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues