Al-Risala · April 2017 · page 19

وأحياناً على بكر أخينـا

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹

بعض کی گردن مارنے لگے۔

اس مدت میں شاہ رکن کا فتنان شاہر ظفر ایکی ادوار سے متعلقہ فقرات ۳۱، ۳۱، ۳۶، ۳۷، ۳۸، اس حدیث میں کفر کا لفظ شدت اظہار کی بنا پر ہے۔ باعتبار حقیقت اس سے مراد یہ ہے کہ دور جاہلیت کی طرف لوٹ نہ جانا۔ اسلام سے پہلے عرب میں جو دور تھا، اس کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں عرب میں قبائلی دور (tribal age) قائم تھا۔ قبائلی دور کا کلچر قتل و قتال کا کلچر تھا۔ ابو تمام حبیب بن اوس الطائی نے اپنے انتخابی مجموعہ دیوان الحماسہ میں ایک جاہلی شاعر کا ایک شعر اس طرح نقل کیا گیا ہے :

وأحياناً على بكر أخينـا

یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی بکر سے لڑ جا- ، بی ، رے پ ، ں ، س ، ی ، ت ، ب ، ہی ، ر ، م ، ی ت إذا ما لم نجد إلا أخانا تے ہیں ۔ جب کہ ہمیں لڑنے کے لیے اپنے بھائی یی اور کسی، ہم اپنے بھائی بھر سے لڑ جاتے ہیں۔ جب لہو میں لڑکے کے لیے اپنے بھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ نصیحت کا پس منظر یہ ہے کہ یہ لوگ جن کی پرورش عرب کے قبائلی ماحول میں ہوئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی سابقہ کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشن نہ کر پائیں اور دوبارہ ان کے اندر جنگ و جدال کا کلچر شروع ہو جائے۔ ابتدائی دور کے اہل ایمان کے لیے اس کنڈیشننگ کا مطلب عرب کے قدیم ماحول کی کنڈیشننگ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر ان کے اندر بعد کے زمانے میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جو دوبارہ جنگ و تشدد کے کلچر میں مشغول ہیں، وہ بھی اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہیں۔ فرق یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کنڈیشننگ تاریخی کنڈیشننگ (historical conditioning) ہے۔ عباسی دور میں جو کتابیں تیار ہوئیں، وہ اس تاریخی کنڈیشننگ کا ذریعہ بن گئیں۔ اس زمانے میں یہ ہوا کہ سیرت رسول کی کتابیں مغازی کے پیٹرن پر لکھی گئیں ۔ مسلم تاریخ پوری کی پوری فتوح الشام اور فتوح البلدان کی زبان میں تیار ہوئی۔ بعد کا پورا لٹریچر عملاً اسی اسلوب میں ڈھل گیا۔ اس کی ایک مثال ایک مسلم شاعر کا یہ شعر ہے :

ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے پروگرا پرپراں، ادب میں ربط میں یہ آں، فتوحات صلاح الدین ابھی زندہ ہیں دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page