Al-Risala · April 2017 · page 33

حضرت عائشہ کا نکاح

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳

کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔

قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آتی ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا (25:54)۔ یعنی اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور صہر والا بنایا۔ اور تمہارا رب بڑی قدرت والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں خالق نے انسان کے اوپر اپنی ایک نعمت کو بتایا ہے۔ انسان کے درمیان دو طریقوں سے تعلقات قائم ہوتے ہیں، ایک خونی رشتہ (blood relationship) اور دوسرا صہر یعنی نکاح کا رشتہ (marriage relationship)۔ انھیں فطری بنیادوں پر انسانی سماج (human society) قائم ہے۔ اگر یہ دو فطری عوامل نہ ہوں تو انسان کی زندگی حیوان کی مانند جنگل کی زندگی بن جائے۔ یہ فطری تعلقات دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے سماجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس پہلو کی طرف اشارہ قرآن کی ایک آیت میں رہط (family) کے لفظ سے کیا گیا ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (11:91)۔ یعنی انھوں نے کہا کہ اے شعیب، جو تم کہتے ہو، اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور ہے۔ اور اگر تمھارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے ۔ اور ہم تمھیں صاحب حیثیت نہیں سمجھتے۔ قرآن کے اس حوالے سے مذکورہ تو جیہہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی تائیدات برابر ملتی رہیں۔ پہلے بنو ہاشم، اس کے بعد خدیجہ کا خاندان، اس کے بعد حضرت ابو بکر کا خاندان ۔ یہ رسول اللہ کے لیے ایک فطری تائید تھی، جو نسبی اور صہری تعلقات کی بنیاد پر آپ کو حاصل ہوئی۔ حضرت عائشہ کے ساتھ آپ کے نکاح کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وہ نہایت با معنی نظر آئے گا۔ خاص طور پر حضرت ابو بکر صدیق کا معاملہ بہت زیادہ اہم ہے۔ وہ رسول اللہ کی زندگی میں آپ کے ایک اہم ساتھی بنے، اور رسول اللہ کی زندگی کے بعد بھی انھوں نے خلیفہ کی صورت میں اسلام کے استحکام کے لیے نہایت اہم رول ادا کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page