Al-Risala · April 2017 · page 32

حضرت عائشہ کا نکاح

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲

حضرت عائشہ کا نکاح

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا۔ خدیجہ مکہ کی ایک با اثر خاتون تھیں ۔ اس بنا پر اس نکاح سے پیغمبر اسلام کو مکہ میں ایک مضبوط سماجی بنیاد (social base) حاصل ہوگئی۔ مکہ میں یہ سماجی بنیاد آپ کو تقریبا 25 سال حاصل رہی۔ آپ ایک صاحب مشن تھے، اور اپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مشن کو مضبوط سماجی بنیاد حاصل ہو۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلام کا دوسرا نکاح حضرت عائشہ سے ہوا۔ یہ نکاح مکہ دور کے آخری زمانے میں ہوا، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ اس وقت عائشہ کی عمر نو سال تھی، اور پیغمبر اسلام کی عمر 53 سال۔ عمر کے اس فرق کو لے کر لوگوں کے درمیان بہت بحثیں جاری ہیں۔ لوگ طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف نکاح کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بطور واقعہ یہ ایک نئی سوشل بنیاد حاصل کرنے کا معاملہ تھا۔ حضرت عائشہ سے نکاح کے بعد، پیغمبر اسلام کو ان کے باپ کی صورت میں ایک نئی مضبوط تر بنیاد حاصل ہوگئی۔ جیسا کہ تاریخی طور پر معلوم ہے، حضرت ابو بکر صدیق آپ کی زندگی میں بھی آپ کے مضبوط ساتھی بنے رہے، اور آپ کی وفات کے بعد بھی انھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام کے استحکام (stability) کے لیے نہایت اہم رول ادا کیا۔

فطرت کے نظام کے تحت ہر انسان کو کامیاب زندگی کے لیے سماجی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق یہ سماجی بنیاد دو طریقوں سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک خونی رشتہ، اور دوسرا، نکاح کا رشتہ (الفرقمان: 54)۔ فطرت کے نظام کے تحت یہی دو چیزیں مضبوط سماجی بنیاد کا ذریعہ ہیں۔ ہر انسان انھیں دو رشتوں کی مدد سے سماج میں مضبوط بنیاد حاصل کرتا ہے۔ اس سماجی بنیاد کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے، حتی کہ پیغمبر کو بھی۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page