جاہلیت کیا ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۵
کہتے ہیں، وہ دہرا معیار کا شکار ہیں۔ کیوں کہ انڈیا کے بھگت سنگھ نے 1929 میں نئی دہلی میں انگریزوں کی اسمبلی پر بم مارا۔ مگر بھگت سنگھ کو دہشت گرد نہیں کہا جاتا، فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی دہشت گرد نہ کہیے، بلکہ ان کو انصاف کی لڑائی لڑنے والا کہیے۔ اسی طرح آپ مسلمانوں کی خودکش بمबारी کی وکالت کریں، اور یہ کہیں کہ مسلمان جس اسپرٹ کے تحت یہ کام کر رہے ہیں، وہ شہادت کی اسپرٹ ہے۔ اس لیے ان کی خودکش بمباری کا زیادہ درست نام استشهاد (طلب شہادت) ہے۔ مگر یہ بات ایک شدید مغالطہ پر مبنی ہے۔ کیوں کہ شہادت ایک اسلامی لفظ ہے۔ اور قرآن یا حدیث میں کہیں بھی، یہ تعلیم نہیں ہے کہ اہل ایمان اپنے آپ کو مار کر شہید بنیں۔ اسلام میں شہید ہو جانا ہے، نہ کہ شہید کروانا۔ دجل بمعنی تزئین ہمیشہ دنیا میں جاری رہا ہے۔ حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک دجال (بڑا دجال) پیدا ہوگا۔ یہ بڑا دجال (the great deceiver) اپنی ذات کے اعتبار سے بڑا دجال نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ زمانے کے اعتبار سے بڑا دجال ہوگا۔ یعنی اس کو ایک ایسا ترقی یافتہ زمانہ ملے گا، جب کہ وہ نئے وسائل کی مدد سے زیادہ بڑے درجے کی دجالی کر سکے گا۔ مثال کے طور پر دجال کے بارے میں حدیث رسول میں آیا ہے : ينادي بصوت له يسمع به ما بين الخافقين (كنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دجال کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال ایک ایسے زمانے میں ظاہر ہوگا، جب کہ عالمی مواصلات (global communication) کا دور آ چکا ہوگا، اور وہ اپنے وقت کے وسائل کو استعمال کرکے عالمی سطح پر اپنی آواز پہنچا سکے گا۔
حدیث میں آتا ہے: مكتوب بين عينيه ك ف ر (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2933)۔ یعنی دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر (کفر) لکھا ہوا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال اگر چہ اپنی غلط باتوں کو نہایت مزین کر کے پیش کرے گا، لیکن صاحب معرفت لوگ اس کی غلطی کو پہچان لیں گے، اس طرح وہ اس کی گمراہی سے بچ جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues