Al-Risala · April 2017 · page 36

تاجر کا معاملہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

تاجر کا معاملہ

تاجر کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن عبد الله بن أبي نهيك قال : لقيني سعد بن أبي وقاص في السوق فقال: اتجار كسبة اتجار كسبة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ليس منا من لم يتغن بالقرآن (مسند الحمیدی، حدیث نمبر 77)۔ یعنی عبد اللہ بن ابی نہیک کہتے ہیں کہ سعد ابن ابی وقاص بازار میں ان سے ملے۔ انھوں نے کہا: تم لوگ بہت کمائی کرنے والے تاجر بن گئے ہو، تم لوگ بہت کمائی کرنے والے تاجر بن گئے ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کو قرآن غنی نہ بنا دے۔ اس حدیث کا یہ مطلب یہ نہیں کہ قرآن کے بعد مومن کو تجارت ترک کر دینا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے صحابہ تجارت کرتے تھے۔ مثلاً عثمان ابن عفان اور عبد الرحمن ابن عوف، وغیرہ۔ امام غزالی نے لکھا ہے: و كان أصحاب رسول الله يتجرون في البر والبحر (احیاء علوم الدین، 2/63)۔ یعنی رسول اللہ کے اصحاب خشکی اور تری میں تجارت کرتے تھے۔ یہ حدیث نفس تجارت کی نسبت سے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ان تاجروں کی نسبت سے ہے، جو تجارت کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہو جائیں کہ وہی ان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بن جائے۔ تجارت ہی ان کی دلچسپیوں کا واحد مرکز ہو۔ جو اپنی صلاحیتوں کو تمام تر تجارت میں لگا دے۔ تجارت یا کوئی اور معاشی ذریعہ برائے ضرورت ہوتا ہے، نہ کہ برائے مقصد۔ جو شخص تجارت کو ایک ذریعہ کے طور پر اپنائے، اسی کے ساتھ وہ دین کی ذمہ داریوں کو بھی ادا کرے تو وہ بلاشبہ ایک صحیح تاجر ہے۔ اس حدیث میں اس انسان کا ذکر ہے جو تجارت میں اتنا زیادہ مشغول ہو جائے کہ دینی کام میں اس کی رغبت باقی نہ رہے۔ یعنی یہ حدیث نفی تجارت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ طریق تجارت کے بارے میں ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ دلچسپی کے درجے میں قرآن کو لے، اور ضرورت کے درجے میں معاشی سرگرمی کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page