Al-Risala · April 2017 · page 42

دیباچہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۴۲

دیباچہ

زیر نظر کتاب راقم الحروف کی ان تحریروں کا مجموعہ ہے، جو ماہنامہ الرسالہ میں سوال وجواب کے کالم کے تحت چھپتے رہے ہیں۔ اس مجموعہ کو برادر م اصطفا علی صاحب نے کولکا تا ٹائیم کے تعاون سے تیار کیا ہے، اور کولکا تا ٹائیم اس کو اپنے اہتمام کے ساتھ اس کو شائع کر رہی ہے۔ ان لوگوں کی یہ کوشش بلاشبہ ایک مستحسن کوشش ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو اس کام کے لیے جزائے خیر عطا فرمائے، اور اس کے پڑھنے والوں کے لیے یہ مجموعہ ان کی زندگی کے لیے مفید ثابت ہو۔ آمین سوال وجواب کا طریقہ بہت قدیم طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتا ہے۔ سوال کرنے والے کے لیے بھی، اور جواب دینے والے کے لیے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال و جواب ایک باہمی تعلم (mutual learning) کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں سائل اور مجیب دونوں کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مزید مطالعہ کے ذریعہ اپنے علم میں اضافہ کریں۔ وہ زیر بحث مسئلے کے نئے گوشوں کو دریافت کریں۔ اس طرح یہ طریقہ طرفین کے لیے فکری ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔

اسلام میں سوال کے بجائے تدبراور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسیٰ جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا: فَلا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ (18:70)۔ یعنی تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلے غور وفکر کرو۔ غور وفکر کر کے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔

اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک صحابی کہتے ہیں: وعن

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page