دیباچہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳
کثرۃ السوال (مسند احمد، حدیث نمبر 18232) ۔ یعنی رسول اللہ نے زیادہ سوال سے منع کیا تھا۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے خود سوال کے تقاضے کو پورا کرے، اس کے بعد وہ سوال کرے ۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر کرے ۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی ہے ۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کرسکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتا ہو ۔
مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کرکے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فوراً سوال کرنا، عجلت پسندی کی علامت ہے ۔ بات کو سن کر پہلے غور و فکر کرنا چاہیے ۔ اگر غور وفکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی تو جہ اس پر دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے ۔ وحید الدین نئی دہلی، 4 جنوری 2017 ******* تعمیر کے لیے سب سے زیادہ جس کی ضرورت ہے، وہ ہے ایک سوچا سمجھا نقشہ عمل، جس کے مطابق ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں سرگرم عمل ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues