ہدایتِ ربانی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰
ہدایتِ ربانی
قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (29:69) یعنی جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی، ان کو ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ اور یقیناً اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔
قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں کوشش کرنے سے انسان کے لیے راستے کھلتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی دین کے نام پر کوئی کوشش شروع کرے اور کچھ دنوں کے بعد معلوم ہو کہ اس کی کوشش عملاً نتیجہ خیز نہیں ہو رہی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پورے معاملے پر نظرثانی (rethinking) کرے ۔ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ ایسا کرے، تو یقیناً اس کو رہنمائی ملے گی کہ وہ کون سا زیادہ مؤثر طریقہ ہے جو زیادہ نتیجہ خیز بن سکتا ہے۔ جو ایسا نہ کرے اس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ آخر کار ایک بند گلی (blind alley) میں پھنس کر رہ جائے۔ ایسے لوگوں کا ماضی بھی برباد اور مستقبل بھی برباد۔
موجودہ زمانے میں تمام مسلمانوں کا حال یہی ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے نو آبادیاتی نظام (colonialism) کے خلاف مسلح جدوجہد کی۔ لیکن یہ جدوجہد نتیجہ کے اعتبار سے مکمل طور پر نا کام ثابت ہوئی۔ اسی طرح انھوں نے فلسطین میں اسرائیل کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ کشمیر میں انھوں نے اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ اسی طرح ہر ملک میں انھوں نے کسی کو اپنا دشمن فرض کیا، اور اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف پر شور تحریکیں چلائیں۔ لیکن ہر ملک میں ان کی تحریکیں، باعتبار نتیجہ کامل طور پر نا کام ثابت ہوئیں ۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق مسلمان اگر چاہتے کہ اللہ کی طرف سے کارگر رہنمائی آئے تو ان کو اپنی تحریکوں پر نظر ثانی کرنا ہوگا۔ یہ نظرثانی ان کے لیے جہاد برائے خدا (Jihad for the sake of God) ہوگا۔