لمبی عمر
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱
لمبی عمر
انسان ہمیشہ سے اس کا طالب رہا ہے کہ اس کو لمبی عمر حاصل ہو۔ اسی لیے اس موضوع پر ہمیشہ سب سے زیادہ ریسرچ کی گئی ہے۔ بادشاہ لوگ قدیم زمانے میں علم طب کی بہت زیادہ سرپرستی کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ علم طب ان کو لمبی عمر دے سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں میڈیکل سائنس کے شعبے میں سب سے زیادہ ریسرچ اسی موضوع پر ہورہی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اس کو لمبی عمر (longevity) حاصل ہو۔ مگر اس شعبے میں انسان کو اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ لمبی زندگی کا نہیں ہے، بلکہ زندگی کی کوالٹی (quality) کا ہے۔ بالفرض انسان کو لمبی عمر مل جائے، اور زندگی کی کوالٹی میں بہتری نہ ہو تو لمبی عمر کا کوئی فائدہ نہیں۔ موجودہ حالت میں لمبی عمر انسان کے لیے صرف اس کے مسائل میں اضافہ کرے گی، وہ اس کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ بچہ ہوتا ہے، پھر وہ جوانی کی عمر میں پہنچتا ہے۔ پھر وہ جوان ہوتا ہے۔ پھر وہ ادھیڑ عمر میں پہنچتا ہے، اس کے بعد وہ بوڑھا ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد وہ بستر پر پڑ جاتا ہے۔ اس مدت میں انسان مسلسل طور پر مختلف مسائل کی زد میں رہتا ہے: بیماری، حادثہ، بڑھاپا، وغیرہ۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ زندگی کی کوالٹی بڑھانے کا ہے، نہ کہ عمر کو لمبا کرنے کا۔ انسان اپنی زندگی میں جن مسائل سے دوچار ہوتا ہے، ان کا تعلق جسمانی زوال (degeneration) اور ڈی این اے (DNA) سے ہے۔ سائنٹفک ریسرچ کے مطابق، انسان کی پوری زندگی ڈی این اے سے کنٹرول ہوتی ہے، اور ڈی این اے ایک ایسی چیز ہے، جس پر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انسان پر بہر حال موت آتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ موت کے بعد کی زندگی میں انسان اسی قانون حیات کا موضوع بنارہے، جس کا موضوع وہ موت سے پہلے کی عمر میں ہوتا ہے، تو انسان کو نہ موت سے پہلے کی زندگی میں سکون حاصل ہوگا، اور نہ موت کے بعد کی زندگی میں۔